جماعت اسلامی نے بجٹ مسترد کردیا،وزیراعظم بھی دس ماہ کا حساب دیں،سراج الحق

216
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف مال روڈ پر عوامی مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف مال روڈ پر عوامی مارچ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سارا بجٹ سودی نظام پر مبنی ہے ، 2828 ارب روپے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ، سود پاکستان کو کھا رہاہے اور اس کا مقصد ہی سودی قرضوں میں جکڑکر ہماری آزادی کو سلب کرنا ہے ، منتخب رکن اسمبلی اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹا کر آئی ایم ایف کے نمائندے کو مسلط کردیا گیا اور خزانے کی چابیاں بھی آئی ایم ایف کے ایجنٹ کے حوالے کر دی گئی ہیں ،وزیر سائنس غربت اور بھوک سے پریشان لوگوں کو فلمیں دکھانے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 11 سو سینما گھر تعمیر کریں گے، ایسے لگتاہے کہ حکمرانوں کے ہاں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ۔ وزیراعظم سابق حکومتوں کے 10 سال کے قرضوں کا ضرورحساب کتاب کریں مگر انہوںنے 10 ماہ میں جو قرضے لیے ہیں اس کا بھی حساب ہوناچاہیے ۔ اسلام آباد کے قبرستان میں موجود بے ضمیر مُردوں کا بھی احتساب ضروری ہے ۔ ہم مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف ہر بڑے شہر میںعوامی مارچ کریں گے۔ 23 جون کو فیصل آباد میں عوامی مارچ ہوگا ۔ ہم ملک و قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد کرانے اور مہنگائی و بے روزگاری کی دلدل سے نکالنے کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مال روڈ لاہور پر مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام بڑے عوامی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ، نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، عبدالغفار عزیز ، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ عوامی مارچ سے امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم نے منتخب ہونے کے بعد قوم سے وعدہ کیا تھاکہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے لیکن اب وہ ہر بات پر یوٹرن لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے خود کشی کو بہتر قرار دیا تھا مگر اب انہوںنے ملک کا معاشی نظام اور قومی خزانہ آئی ایم ایف کے حوالے کر دیاہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ حکومت کرنا کون سا مشکل ہے ، اگر انہیں عوام کی پریشانیوں غربت اور بھوک پیاس کا پتا ہوتا تو ان کے لیے حکومت کرنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ حکومت نے بجٹ میں اتنی مہنگائی کی ہے کہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے ۔ چینی کی قیمت 4 روپے کلو تک بڑھا دی گئی ہے حالانکہ گنا اور چینی تو باہر سے نہیں آتے ۔ اسی طرح سیمنٹ مہنگا کیا گیا ہے اور دوائیوں کی قیمتوں میں 2 سو فیصد تک اضافہ کر دیاگیاہے ۔ اب غریب روٹی کھائے یا علاج کرائے ۔ انہوں نے کہاکہ آٹا ، گھی اور دالیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ عام آدمی کے لیے سانس لینا مشکل ہوگیاہے ۔ ایک طرف عوام غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں فاقوں پر مجبور ہیں اور دوسری طرف صدر صاحب کے گھر میں طوطوں کے پنجر ے کے لیے لاکھوں روپے کے ٹینڈر دیے جارہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی حکومت کی بے حسی اور عوام کی بے بسی پر اب خاموش نہیں رہے گی ، ہم اس ظلم و جبر کے خلاف قوم کو منظم کریں گے اور بھر پور تحریک چلائیں گے ۔ ہمارے احتجاج کا مقصد عوام کی ترجمانی ہے ، ہم ملک و قوم کو مہنگائی اور آئی ایم ایف سے نجات دلانا چاہتے ہیں ۔ ہم کسی ایسے احتجاج میں نہیں جائیں گے جس کا مقصد لوگوں کو جیلوں سے چھڑاناہے ۔عوامی مارچ میں زندہ دلان لاہور نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی، مارچ میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔