جسے گرفتار کرنا ہے کر لے، سندھ کے حق کیلیے لڑتا رہوں گا ،مراد علی شاہ

138
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پوسٹ بجٹ پر یس کانفر نس کر ر ہے ہیں
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پوسٹ بجٹ پر یس کانفر نس کر ر ہے ہیں

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کوئی اہلیت نہیں ہے، وفاقی حکومت کی ناتجربے کاری کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، اپنا این آر او اپنے پاس رکھو اور مجھے صوبے کا حق دو، سندھ کے حق کیلیے لڑتا ہوں تو کہتے ہیں کہ این آر او مانگتا ہے، مجھے گرفتارکرنا ہے تو کریں، میں کہیں نہیں جاؤں گا، وفاق کا صوبوں کے ساتھ رویہ افسوسناک ہے، پچھلے ایک سال میں جو ماحول دیکھا ہے ایسا 10 سال میں محسوس نہیں
کیا، موجودہ وسائل میں سندھ میں بہترین بجٹ دیا، وفاق نے پیسے مزید کم کر دیے، صوبوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی تو عوام کو بتائیں گے، سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کا آئینی اختیار گورنر سندھ کے نہیں میرے پاس ہے، سندھ میں گورنر راج نافذ نہیں کیا جاسکتا، جس وفاقی حکومت کو بجٹ پاس کرانے کیلیے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ گورنر راج کیا لگائے گی، گورنر سندھ خود کو وفاقی حکومت سمجھتے ہیں، گورنر سندھ پر بھروسہ نہیں کہ یہ کبھی آئینی کردار ادا کرسکیں گے، پولیس آرڈر 2002ء پر گورنر سندھ کے دستخط کا انتظار کیے بغیر پولیس قانون پر 17 جون سے عملدرآمد کیلیے ہوم ورک شروع کردیں گے، اسمبلی کے پاس کردہ کسی بھی بل پر 14 روز میں گورنر سندھ کیلیے دستخط کرنا لازمی ہے۔ ہفتے کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق کا رویہ انتہائی افسوس ناک اور غیر ذمے دارانہ ہے۔ ہمیں 30 مئی کو بتایا گیا کہ ہم سندھ کو 666 بلین روپے دیں گے، پھر 4 جون ایک خط لکھا کہ 662 بلین روپے دیں گے اور پھر وفاقی بجٹ میں 631 بلین روپے کا اعلان کیا۔ کراچی کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی گئی ہے، کتاب میں دکھائیں کہ وفاق نے کراچی کے 45 ارب روپے کہاں رکھے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں گزشتہ 10 سال سے بجٹ بنا رہا ہوں، لیکن اس طرح کی صورتحال کبھی پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ میں حزب اختلاف کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور جس طرح انہوں نے احتجاج کیا وہ ناقابلِ برداشت تھا۔ پیپلزپارٹی کسی دھمکی سے کبھی نہیں ڈرتی۔وفاقی کا صوبوں کا ساتھ رویہ بہت خراب ہے،ہم تو آواز بلند کر رہے ہیں، باقی صوبوں کی تو آواز تک دبا دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ قومی اقتصادی کونسل، مشترکہ مفادات کونسل اجلاس یا وزیراعظم سے ملاقات میں سندھ کے حق کیلیے لڑتا ہوں تو واویلا کیا جاتا ہے کہ این آر او مانگ رہا ہوں۔ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرلیں مگر سندھ کے حق کے لیے لڑتا رہوں گا۔ جب تک پارٹی کا بھروسہ ہے میں یہیں موجود ہوں کہیں نہیں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں گور نرراج نافذ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ جس وفاقی حکومت کو بجٹ پاس کرانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ کیا سندھ میں گورنر راج لگائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانا آئینی طور پر وزیراعلیٰ کا اختیار ہے آئین گورنر کو اسمبلی اجلاس بلانے کا اختیار نہیں دیتا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کا اسٹاف کہتا ہے کہ گورنر سندھ 3 بجے اٹھتے ہیں۔ یکم جون کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کیلیے بھجوائی گئی سمری کا ابھی تک انہوں نے جواب نہیں دیا۔ وہ خود کو وفاقی حکومت سمجھتے ہیں مجھے زبردستی کہا گیا کہ گورنر سندھ سے ملیں میں نے ان سے ملاقات کی اور کئی تجاویز دیں مگر انہوں نے ایک بھی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اورکہا کہ سندھ حکومت اپنے وسائل سے اپنا کام کرے اور وفاقی حکومت اپنا کام کرے گی، ہم فنڈز سندھ حکومت کو نہیں دیں گے۔