ٹرمپ کی سالگرہ پر مہاجر دشمن پالیسیوں کیخلاف احتجاج

49

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہترویں سالگرہ کے موقع پر میکسیکو کی سرحدوں پر مہاجرین مخالف پالیسیوں کے خلاف نیو یارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے مین ہیٹن میں ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور کے سامنے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو ان کے کنبوں سے جدا کرکے حراست میں رکھے جانے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا’’امریکاکی مہاجر پالیسیاں جرم ہیں‘‘، ’’ٹرمپ کی سالگرہ کے وقت بچے اپنے والدین کے بغیر ہی اپنی سالگرہ منارہے ہیں‘‘اور ’’زیر ِ حراست بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں‘‘۔ اس موقع پر مظاہرین نے نعرے بھی لگائے، جب کہ بچوں کے مصنوعی تابوت اور لاشیں سامنے رکھ کر معاملے کی سنگینی کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے میکسیکو سرحد کی پالیسی کے حوالے سے اپنی امیگریشن ٹیم کو ہدایات جاری کردیں۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اس سلسلے میں ایک قانون دان تھامس ڈی ہامن کو امیگریشن پالیسی کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا ہے۔ ٹرمپ نے ہدایت جاری کی کہ ٹیم وائٹ ہاؤس مہاجرین سے متعلق نئی پالیسی وضع کررہا ہے اور ٹیم کے افراد وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ایام میں تھامس ڈی ہامن کو امیگریشن ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا، تاہم پارلیمانی رکن کے طور پر نامزدگی کے بعد وہ ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔ تاہم اس دوران وہ وائٹ ہاؤس کی مہاجرین پالیسی کی کھل کر حمایت کرتے رہے۔ ٹرمپ کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھاکہ تھامس کو میکسیکو سرحد اور مہاجرین سے متعلق پالیسی وضع کرنے کا مکمل اختیار دیا جارہا ہے۔ وہ ماضی میں سرحدی معاملات میں بڑی حد تک سرگرم رہے اور اب وہ اس حوالے سے براہ راست میرے ماتحت ہوں گے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ میکسیکو سرحد پر مہاجرین کا سیلاب نہ روک پانے اور کئی احکامات نہ ماننے پر اپنی انتظامیہ کے اہل کاروں سے نالاں ہیں اور اس حوالے سے وہ اپنے غصے کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔