بحرین کانفرنس ہمارے ہی پیسوں سے ہمیں رشوت دینے کی کوشش ہے‘ لبنان

82

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحرین کی میزبانی میں ہونے والی امریکی اقتصادی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ منامہ کانفرنس امریکا کے ’’صدی کا سمجھوتا‘‘ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ہماری ہی جیبوں سے پیسے نکال کر ہمیں رشوت دینے کے مترادف ہے۔ نبیہ بری کا بیان ترکی کے خبر رساں ادارے اناطولیہ نے نقل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے بیت المقدس کو اسرائیل کا ابدی دارالحکومت بنانے، اسے یہودیانے، وادی جولان پر اسرائیلی تسلط مضبوط کرنے اور فلسطین میںیہودی آباد کاری کو آئینی جواز فراہم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔لبنانی پارلیمان کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں کوئی نئی اشتعال انگیز قبول کریں گے اور نہ ہی خلیجی ممالک کے ساتھ تصادم اختیار کرنے کی اجازت دیں گے۔ فلسطین اور قضیہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ خیال رہے کہ لبنان سرکاری سطح پر منامہ کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ کر چکا ہے۔ دوسری جانب تنظیم آزادی فلسطین کے ماتحت رابطہ کمیٹی کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ رابطوں پر فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم اداروں اور فلسطینی عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے ہر سطح پر بائیکاٹ اور صہیونی ریاست سے سرمایہ کاری واپس لینے کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم بی ڈی ایس نے ایک بیان میں فلسطینی رابطہ کمیٹی کے اسرائیل کے ساتھ روابط کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بی ڈی ایس نے کہا ہے کہ تنظیم آزادی فلسطین کے زیرانتظام رابطہ کمیٹی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ غاصب صہیونیوں کے ساتھ رابطوں کی پینگیں بڑھائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہِ صیام کے دوران پی ایل او کی رابطہ کمیٹی کے ارکان نے یافا شہر میں اسرائیلیوں کی طرف سے دی گئی ایک افطار پارٹی میں شرکت کی۔ ایک طرف فلسطین نیشنل کونسل اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات ختم کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے، اور دوسری طرف پی ایل او کی ماتحت ایک کمیٹی غاصب صہیونیوں کے ساتھ میل جول بڑھا رہی ہے۔ بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے اور اس سے ہر طرح کے تعلقات ختم کرنے کے قومی فیصلوں پر عمل یقینی بنائے۔