شام میں لڑائی جاری‘ مزید46افراد مارے گئے

50

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغرب میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ کارروائیوں میں مزید 46افراد مارے گئے ہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق یہ حملے شمال مغربی صوبوں ادلب اور حما میں کیے گئے۔ شامی مبصر کے مطابق ہفتے کی صبح مختلف مقامات پر لڑائی اور فضائی حملوں میں اسد نواز 26 جنگجو اور 9مزاحمت کار مارے گئے۔ شمالی صوبے حماہ میں اسدی فوج نے مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 9 مزاحمت کار جاں بحق ہوئے، جب کہ اسی صوبے میں مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں اسد نواز 26جنگجو مارے گئے۔ اس دوران جنگی طیاروں نے تازہ کشیدگی کے سینتالیسویں روز ہفتے کو آبادیوں پر بھی بم باری جاری رکھی۔ شامی مبصر کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 11 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اسدی فوج اور روس کے طیاروں نے ادلب کے قصبے بارہ، شہر معرۃ النعمان اور فطیرہ نامی قصبے پر بم گرائے۔ ان حملوں میں 3خواتین اور 3 بچے بھی مارے گئے۔ خیال رہے کہ تُرک وزیر خارجہ مولود شاوش اولو نے جمعہ کو خبردار کیا تھا کہ ترکی روس کی اس معذرت کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ شام اس کی بات نہیں سن رہا ہے اور وہ صوبہ ادلب میں حملوں کو روکنے کو تیار نہیں۔ ترکی اور روس کے درمیان گزشتہ سال آستانہ میں شام میں جنگ بندی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت شام اور روس نے ادلب میں مزاحمت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی نہ کرنے سے اتفاق کیا تھا اور ادلب اور اس کے نواحی علاقوں میں غیر فوجی علاقہ قائم کیا گیا تھا، لیکن اب اسدی فوج نے 30اپریل سے ادلب اور حما میں مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ علاقوں پر حملے تیز کررکھے ہیں اور صورت حال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔ 47 روز سے جاری لڑائی میں 424شہریوں سمیت 1629افراد مارے گئے ہیں۔