کولکتہ کے بعد دہلی کے سرکاری ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے

48

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) کولکتہ کے بعد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی سرکاری ڈاکٹروں اور ریزیڈینٹ ڈاکٹروں نے ہڑتال شروع کر دی۔ یہ ڈاکٹر کولکتہ میں ڈاکٹروں پر ایک مریض کے خاندان کی جانب سے ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دہلی کے سرکاری اسپتالوں میں صرف ایمرجنسی وارڈ کھلے رہے اور تمام ڈاکٹر اس ہڑتال میں شریک ہوئے۔ دہلی میں ملک کا سب سے بڑا اور نامورترین اسپتال آل انڈیا میڈیکل انسٹیٹیوٹ ’’ایمز‘‘ اور صفدر جنگ سمیت تقریباً سبھی اسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔ ڈاکٹروں کے ہڑتال پر جانے کے بعد یہاں مریضوں کا حال برا ہے۔ بھارت میں بہتر اور سستے علاج کے لیے لوگ ایمز اور دیگر سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایمز کے ریزیڈینٹ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر راجیو رنجن نے بتایا کہ منگل کو پہلے دہلی کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے کولکتہ کے واقع کے بعد خاموش احتجاج کیا تھا، لیکن اب ڈاکٹروں نے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی کے علاوہ ممبئی، بنگلور، چندی گڑھ، بھوپال، اڑیسہ اور چنائے میں بھی ڈاکٹروں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ممتا بینرجی نے ڈاکٹروں سے بات چیت کی پیش کش کی ہے، لیکن ڈاکٹروں نے ان سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اسی دوران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے سبھی ریاستی حکومتوں کو ایک خط لکھ کر کہا کہ وہ ڈاکٹروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دہلی کے سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی میں حالات بہت خراب ہیں۔ ہر سرکاری اسپتال کے باہر مریض اور ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ پریشان ہیں۔ صفدر جنگ اسپتال کے باہر مریضوں کا ہجوم جمع ہے، جو علاج نہ ہونے پر پریشان ہیں۔