ڈاکٹر وسیم اختر ایک نطریہ، عقیدے، جہد مسلسل کا نام ہے، سراج الحق

93
بہاولپور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق سابق امیر پنجاب و پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر سید وسیم اختر کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں
بہاولپور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق سابق امیر پنجاب و پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر سید وسیم اختر کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں

 

لاہور( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے قائد اعظم میڈیکل کالج آڈیٹوریم بہاولپور میں سابق امیر جماعت اسلامی اور سابق رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈاکٹر سید وسیم اختر ہمیشہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ،تہذیب وشائستگی کے علمبردار اور محسن مخلوق خدا تھے۔بہاولپور کی سیاسی تاریخ ڈاکٹر سید وسیم اختر کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر سید وسیم اختر کاپنجاب اسمبلی میں پہلی جماعت سے قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل منظور کروانا ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔سیدوسیم اختر اپنے حصہ کا اندھیرا ختم کر گئے
اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ان کے نقش قد م پر چلیں۔تعزیتی ریفرنس میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید ترابی ،صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری،اراکین صوبائی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل،احسان الحق چودھری سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں اور دینی جماعتوں کے رہنمائوں،سماجی اور شہریوں حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مرحوم کی دینی اور دنیاوی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ تعزیتی ریفرنس میںبہاول وکٹوریہ ہسپتال کے کارڈیالوجی سینٹراور بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کو ڈاکٹر سید وسیم اختر نے نام سے منسوب کرنے کی قراراد بھی منظور کی گئی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ڈاکٹر سید وسیم اختر ہم میں نہیں رہے۔ہم و ہ بد نصیب ہیں جو انسان کے جانے کے بعد اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ سینٹر سراج الحق نے کہا کہ ڈاکٹر وسیم اختر ایک نظریہ ،عقیدے ، جہد مسلسل ، تمنا ،دعا اور خواہش کا نام ہے ۔ڈاکٹر وسیم اختر کے جانے سے بہاولپور کی آواز خاموش ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سید وسیم اختربزرگوں،نوجوانوں،بچوں سمیت مسلم اور غیر مسلموں کا ڈاکٹر وسیم تھا اور ملک کا ہر شہری ان پر فخر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سید وسیم اختر کی شخصیت اور حسن اخلا ق کی ہر سیاسی پارٹی تعریف کرتی ہے ۔سینٹر سراج الحق نے کہا کہ ڈاکٹر وسیم اختر جاگیردار،سرمایہ کار نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کوٹھی تعمیر کی انہیں بطور امیر جماعت اسلامی جو گاڑی دی گئی تھی عہدے ختم ہونے کے بعد از خود واپس کردی اور بذریعہ ٹرین گھر پہنچ گئے۔وفاقی اور صوبائی بجٹ میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کیلیے کچھ نہیں رکھا گیا بہاولپور کے عوام ایک مرتبہ پھر محروم ہو گئے ہیں۔انہوں نے ڈاکٹر سید وسیم اختر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جرات، ایمانداری کا نام ڈاکٹر سید وسیم اختر ہے۔انہوں نے کہا کہ انشا ء اللہ بہت جلد پاکستان خوشحال اور اسلامی پاکستان بنے گا اور آئی ایم ایف سمیت بیرونی غلامی سے نجات حاصل کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ تعزیتی ریفرنس میں موجود افراد اگر آج اس نظریے پر چلنے کا عہد کرتے ہیں تو ڈاکٹر سید وسیم اختر آج زندہ ہیں۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے اپنے بیٹے کو حافظ قرآن بنایا۔ڈاکٹر سید وسیم اختر خوش نصیب ہیں کہ ان کا بیٹا ،بھائی اور اس آڈیٹوریم میں موجودہ افراد ان کے مشن پر چل رہے ہیں۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن عبدالرشید ترابی نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلیے ڈاکٹر سید وسیم اختر کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔کشمیر ی عوام اس دکھ میں برابر کی شریک ہے۔صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں جب ڈاکٹر وسیم کی عیادت کے کیلیے ہسپتال گیا تو وہی پر نور چہرہ جو ہم نے ساری زندگی دیکھا ، نظرآیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر سید وسیم اختر کو نیک ،پاکباز،دیندار کو محسن بہاولپور نہیں محسن مخلوق خدا پایا ہے۔ڈاکٹر صاحب تو اپنے حصہ کا اندھیرا ختم کر گئے اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ان کے نقش قد م پر چلیں۔ڈاکٹر وسیم اختر کی بہاولپور کیلیے خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ ڈاکٹر سید وسیم اختر اللہ تعالی کے پسندیدہ بندوں میں سے ہیں۔رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پنجاب اسمبلی میں ڈاکٹر سید وسیم اختر کے ساتھ ایک طویل عرصہ اسمبلی میں شریک سفر رہا ہوں وہ تہذیب اور شائستگی کے علمبردار تھے اور میں نے پارلیمنٹ کے تمام اصول ڈاکٹر سید وسیم اختر سے سیکھے۔انہوں نے کہا کہ بہاولپور کی سیاسی تاریخ ڈاکٹر سید وسیم اختر کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔وہ ہمیشہ قرآن و سنت پر عمل پیرا رہے۔ان کا کوئی مخالف اورحریف نہیں تھا ہم سب ان کے مداح ہیں ۔ان کی نماز ہ جنازہ میں غریبوں کو سسکیوں کے ساتھ روتے دیکھا ۔پرنسپل قائد اعظم میڈیکل کالج ڈاکٹر جاوید اقبال نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ کتنی بیٹیوں کی شادیاں،کئی گھرانوں کے چولہے ڈاکٹر سید وسیم اختر کی وجہ سے جل رہے تھے۔بہاول پور میں صحت کے منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل قائد اعظم میڈیکل کالج کا کہنا تھا کہ کارڈیالوجی سینٹر لگی تختی پر ان لوگ کے نام ہیںجن کا اس منصوبہ میں حصہ ضرور ہو گا۔سابق میئر عقیل نجم ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے دو سالہ میئر شپ کے دور میں ڈاکٹر سید وسیم اختر نے میرا ہر طرح کا ساتھ دیا۔شہر میں پانی سیوریج سمیت جو بھی مسائل مجھے درپیش تھے ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پنجاب اسمبلی میں اس کی آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ ہم و ہ بد نصیب ہیں جو انسان کے جانے کے بعد اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ۔ڈاکٹر سید وسیم اختر کی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔سجادہ نشین دربار عالیہ کوٹ مٹھن شریف خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہا کہ سیلاب کے موقع پر ہمارے لیے یہ لمحہ حیران کن تھا جب ڈاکٹر سید وسیم اختر کو میں نے کوٹ مٹھن میں سیلاب زدگان کے ساتھ دیکھا۔ایسی شخصیت کا جدا ہو جانے کا خلا ء مدتوں پورا نہیں ہو گا۔
سراج الحق