فریال تالپور کا 9 روزہ ریمانڈ منظور

172

احتساب عدالت نے جعلی اکاوٴنٹس کیس میں آصف زرداری کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاوٴنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کو احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش کرکے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمہ سے تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے، فریال تالپور جعلی اکاوٴنٹس کیس میں نامزد ملزمہ ہیں اور ان  پر کرپشن کا الزام ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فریال تالپور زرداری گروپ کے اکاوٴنٹ کی ڈائریکٹر ہیں، ان کے دستخط سے زرداری گروپ کے اکاوٴنٹ سے 30 ملین کی رقم اویس مظفر کے اکاوٴنٹ میں منتقل ہوئی، فریال تالپور نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر غیرقانونی رقم کی لانڈرنگ کی۔

احتساب عدالت نے فریال تالپور کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرکے 24 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ نیب نے فریال تالپور کے گھر کو سب جیل قرار دے کر ان کی رہائش گاہ میں ہی نظربند رکھا ہے۔

فریال تالپور کی نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے نیب کورٹ جانے والے راستوں کو خاردار تاروں اور بلاکس کے ذریعے بند کیا گیا۔