پنجاب میں 23 کھرب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش،اپوزیشن کا شدید احتجاج

94
لاہور: وزیراعلیٰ عثمان بزدار بجٹ دستاویز پر دستخط کررہے ہیں
لاہور: وزیراعلیٰ عثمان بزدار بجٹ دستاویز پر دستخط کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2019-20 کیلیے اپوزیشن کے شدید احتجاج میں 2300 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ جس میں سے 350 ارب روپے ترقیاتی اخراجات جبکہ 1717 ارب 60 کروڑ روپے جاری اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں آمدن کا تخمینہ 1990 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس طرح پنجاب حکومت نے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے جب بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ارکان اسمبلی نے اعتراض اٹھایا کہ ارکان کو بجٹ تقریر فراہم کیے بغیر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جس پر ا سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ بجٹ تقریر ارکان میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف جیسے ہی ایوان میں داخل ہوئے تو اپوزیشن بنچوں نے ڈیسک بجا کر حمزہ شہباز شریف کا خیر مقدم کیا اور پنجاب اسمبلی کا ایوان اپوزیشن ارکان اسمبلی کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اپوزیشن ارکان نے ’’گلی گلی میں شور ہے، عمران نیازی چور ہے‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘ سمت مختلف نعرے لگاتے ہوئے بجٹ تقریر کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کر لیا۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومتی ارکان اسمبلی نے ا سپیکر ڈائس کو اپنے حصار میں لے لیا۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی کی نعرے بازی بجٹ اجلاس کے اختتام تک جاری رہی اور صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان اسمبلی ’’جھوٹے جھوٹے‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ NFC کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو 1601 ارب 46 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 388 ارب 40 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مالی سال میں جاریہ اخراجات کا کل تخمینہ 1298 ارب 80 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ جس میں سے 337 ارب 60 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں، 244 ارب 90 کروڑ روپے پنشن، مقامی حکومتوں کے لیے 437 ارب 10 کروڑ اور سروس ڈیلیوری اخراجات کے لیے 279 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے نئے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 47 فیصد اضافے کے ساتھ 350 ارب روپے مختص کیے گئے اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 اعشاریہ 60 فیصد اضافہ کے ساتھ 12کھرب 98 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔تنخواہوں کی مد میں 337 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جب کہ پنشن پر 244 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق شعبہ تعلیم میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 382 ارب 90 کروڑ روپے رکھے گئے جس میں پنجاب بھر میں 64 کالجز کی تکمیل کے لیے 2 ارب 10 کروڑ مختص کیے گئے۔پنجاب تعلیمی بجٹ میں بہاولپور میں اعلیٰ معیار کی چلڈرن لائبریری کا قیام اور ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک یونیورسٹی کا قیام بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ اسکول کونسلز کے لیے 12ارب 90 کروڑ روپے جب کہ مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے 2 ارب 84 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔اسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے انصاف اسکول پروگرام کے تحت 1ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے جب کہ جھنگ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ناروال میں نئی قائم کردہ یونیورسٹیوں کے لیے 40 کروڑ روپے کا اجراء کیا۔وزیرخزانہ پنجاب نے شعبہ صحت کا مجموعی بجٹ 308 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیا جب کہ زرعی شعبہ کے لیے 24 فیصد اضافے سے 123 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے۔وزیرخزانہ پنجاب نے عوامی تحفظ اور امن و امان پر بھی 181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق ریونیو اتھارٹی 166 ارب 60 کروڑ روپے اکھٹے کرے گی جب کہ بورڈ آف ریونیو 81 ارب 20 کروڑ روپے اکھٹے کرے گا۔پنجاب کے نئے بجٹ میں میگا پراجیکٹس، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی تجویز شامل ہے جب کہ محکمہ خزانہ پنجاب نے نئے بجٹ کو ٹیکس فری اور 200 ارب کا سرپلس قرار دیا ہے۔پنجاب کے نئے بجٹ میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت 437 ارب جاری کیے جائیں گے جب کہ آئندہ مالی سال میں پنجاب میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی 388 ارب 40کروڑ روپے ہوگی۔وزیرخزانہ پنجاب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے جاری اخراجات پر سال بھر میں 12 کھرب 98 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز بھی دی۔جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لیے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ملک کے سب سے اہم شعبے زراعت سے متعلق بجٹ میں مختص حصے کے بارے میں صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ زراعت کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت 100 فیصد سے زائد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال 20-2019 میں اس شعبے میں مجموعی طور پر 40 ارب 76 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔اسی طرح آئندہ 5 برسوں میں 55 کروڑ درخت لگانے کے پروگرام کے لیے بجٹ میں 3 ارب 43 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انجام دینے کے لیے بجٹ میں 42 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔قبل ازیںوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیرصدارت 90 شاہراہ قائداعظم پر صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں صوبہ پنجاب کے نئے مالی سال 2019-20 کی بجٹ تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور مالیاتی بل 2019 کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ضمنی بجٹ مالی سال2018-19 کی منظوری کے ساتھ مالی سال 2018-19 کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژن کے فنڈز کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کرنے پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا اور آئندہ جنوبی پنجاب کے لیے مختص فنڈز جنوبی پنجاب پر ہی خرچ کرنے کے فیصلے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزراء نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔