عوام دشمن بجٹ غریب کی زندگی اجیرن کردے گا، مصطفی کمال

73

کراچی (نمائندہ جسارت )سندھ کی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ محکمہ صحت میں ہیلپ لائن کی طرز پر ایک اینڈرائیڈ سسٹم پر کام ہورہا ہے جہاں شہری اپنی شکایات درج کرا سکیں گے اور ان شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے گا، وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دے رہی تھیں۔ وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے یہ خالصتاً انسانی زندگیوں کو معاملہ ہے۔ یہ وبا صرف سندھ لاڑکانہ میں نہیں ہے، ملک کے دیگر صوبوں میں بھی یہ وبا موجود ہے، ایڈز صرف لاڑکانہ نہیں پورے ملک میں ہے، اعداد بتائیں گے تو حیرت ہوگی، لاڑکانہ کے ایک چھوٹے گائوں میں ایڈز نہیں ایچ آئی وی ہے ،ہم اسکریننگ کررہے ہیں پنجاب میں اسکریننگ کرائی جائے تو بہت لوگ مریض نکلیں گے ،سندھ حکومت اپنی استعداد کے مطابق معاملے کو دیکھ رہی ہے، محکمہ صحت کی ٹیمیں گراؤنڈ پر موجود ہیں خدارا اس معاملے پر سیاست سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد ایچ آئی وی ایڈز کے ایشو پر سندھ حکومت کی مدد کے بجائے سیاست کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میں ایک رجحان پایا جاتا ہے کہ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں اچھا علاج ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض دیہی علاقوں سے کراچی کا رْخ کرتے ہیں حالانکہ دیہی سندھ میں بھی ٹراما سینٹرز اور ایس آئی یو ٹی کے یونٹس بہترین کام کررہے ہیں۔وزیر صحت نے پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان کے سوال پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جادو کا چراغ نہیں ہے کہ ایک دو روز میں سرکاری اسپتالوں کی حالت درست کردیں، ہمیں معاشی مشکلات درپیش ہیں ۔
مصطفی کمال