کالجوں کے الحاق سے متعلق بنائی گئی کمیٹی سفارشات جمع کرانے میں ناکام

50

کراچی(رپورٹ:حماد حسین)سندھ بھر میں پرائیویٹ کالجز کے الحاق کے قواعد و ضوابط بنانے اوران پر عملدرآمد کرانے کے لیے قائم کمیٹی سفارشات جمع کرانے میں ناکام ہوگئی۔ 3 ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک ایک ہی اجلاس ہو پایاہے۔کمیٹی7مارچ کو تشکیل دی گئی تھی اور2 ہفتوںمیں سفارشات مرتب کرکے جمع کرانے کے احکامات دیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق محکمہ کالج ایجوکیشن کے سیکرٹری پرویز سہڑ کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن /رجسٹریشن آف پرائیویٹ کالجزپروفیسر زاہداحمد کو بطور چیئرمین،مراد علی راہموں ڈائریکٹر انسپیکشن(ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز)،جاوید احمد شیخ ڈائریکٹر مانٹیرنگ اینڈ ایولیشن محکمہ کالج ایجوکیشن،رافیعہ جاویدڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن /رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز،محمد افضال ڈپٹی ڈائریکٹر ،ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن /رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنزشامل تھے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ بھر کے250سے زائد کالجوں کے الحاق سے متعلق قواعد و ضوابط بنانے اورپہلے سے قائم کالجوں کو ان پر عملدرآمد کرانے کے لیے یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔اور کمیٹی کو پابند کیا گیا تھا کہ 2ہفتوں میں اپنی سفارشات سیکرٹری محکمہ کالج ایجوکیشن کو جمع کرادیں۔تاہم3ماہ گزرنے کے باوجودکمیٹی کا صرف ایک ہی اجلاس ہو پایا تھا۔ جس کے باعث سندھ بھر سے نئے کالجوں کی جانب سے الحاق کی درخواست کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جب تک کمیٹی کی سفارشات مرتب اور اسے قانونی شکل نہیں دی جاتی تب تک کسی بھی کالج کو الحاق نہیں دیا جائے گا۔اس ضمن میں ڈائریکٹر پرائیویٹ کالجز پروفیسر زاہد احمدکا کہنا تھا کہ کمیٹی کی پرائیویٹ کالجوںکے الحاق کے لیے کیا شرائط ہوںگی اور قوانین کیا ہوںگے اس ضمن میں کمیٹی اجلاس گزشتہ روز ہو اتھا۔ سندھ بھر میں 250 سے زائد الحاق پرائیویٹ کالجوں کو قوانین پر عملدرآمد کرانے کے لیے کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ اجلاس میں مکمل کر کے سیکرٹری کالجوں کو جمع کرا دے گی۔آئندہ پرائیویٹ کالج کو الحاق شدہ تب ہی قرار دیا جائے گا جب عمارت کا رقبہ،طالب علموں کی تعداد شرائط اور قوانین کے مطابق ہو گی۔تاحال معیار پر پورا نہ اترنے والے 3،4 کالجوں کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی ہے۔
کالج الحاق