وفاقی بجٹ میں آٹے کی قیمت میں اضافہ کا اندیشہ ہے،حبیب الرحمن

49

لاہور (نمائندہ جسارت) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین حبیب الرحمن خان لغاری ، گروپ لیڈر عاصم رضا ، لیاقت علی خان ،میاںریاض احمد اور چوہدری افتخار احمد مٹو نے کہا ہے کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ آٹے کی قیمت میں اضافہ کا اندیشہ ہے ۔وفاقی بجٹ میں ٹیکس ریونیو بڑھا نے کیلیے ٹیکس گزاروں کی مراعات میں کمی کی گئی ہے۔ نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ ڈال دیا ہے ۔ حکومت ٹیکس گزاروں کیلیے مراعات کا اعلان کرے اور ٹیکس کی شرح مناسب حد تک لائے تاکہ نئے ٹیکس گزاروں کی حوصلہ افزائی ہو۔ موجودہ معاشی حالات میں تمام طبقات کیلیے ایک متوازن بجٹ ہو نا چاہئے تھا لیکن موجودہ بجٹ میں نچلے طبقے پر معاشی بوجھ بڑھ گیا ہے ۔یہ بات پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے گزشتہ روز وفاقی بجٹ کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں گندم کی قیمت1420 روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے حکومت فوری طور پر فلور ملز کیلیے گندم کے ریلیز پرائس کا اعلان کرے تاکہ ذخیرہ اندوزوں کی گندم بروقت باہر آسکے ۔ حکومت نے ہائی ویز پر سفر کرنے والی لوڈر گاڑیوں پر ایکسل لوڈ کے مطابق وزن اٹھانے کی پابندی عائد کر دی ہے ۔جس کی وجہ سے گندم کے ٹرانسپورٹیشن چارجز میں اضافہ ہو جائے گا۔ 150 بوری لانے اٹھانے والی گاڑی اب صرف 100 بوری گندم لوڈ کر سکتی ہے ،حکومت کے اس فیصلہ کی وجہ سے ٹرک ٹرالر والوں نے ہڑتال کر رکھی ہے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں اضافی اخراجات کے باعث 20 کلو گرام آٹے کے تھیلا آٹا کی قیمت میں اضافہ اندیشہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرے ۔ اور وزن کی مقدار مناسب حد تک مقرر کرے تاکہ ٹرانسپورٹیشن چارجز مناسب حد تک رہیں ۔ اور عوام کو ان کا اضافی بوجھ نہ اٹھانہ پڑے۔