ایس آر او 1125کی منسوخی 5: زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹ کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

49

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بجٹ میںپانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرکے لئے زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹی پر تباہ کن ضرب لگائی گئی ہے جس سے ایکسپورٹرز کی مالی مشکلات تشویشناک حد تک بڑھ جائیں گی اور اسمال اینڈ میڈیم صنعتیں ختم ہو جائیں گی اور ایکسپورٹس میں آئندہ مالی سال میں 30فیصد تک کمی ہو جائے گی ۔ ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹرزحکومت کے تجویز کردہ انتہائی سخت اقدام سخت مضطرب اور فکرمند ہیں ۔ پاکستان کی ایکسپورٹس اور انڈسٹریز کو بچانے کی خاطر زیرو ریٹیڈ اسکیم کے نو پے منٹ نو ریفنڈ کے نظام کو لازمی جاری رکھا جائے۔وزیر اعظم کے مشیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس میں ٹیکسٹائل سے متعلق جو اعداد و شمار بیان کئے ان سے اتفاق نہیں کرتے۔مشیر خزانہ کے مطابق ٹیکسٹائل کی مقامی سیلز 1200ارب بتائی گئی جو مبالغہ پر مبنی ہے۔ ہمارے اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل کی مقامی فروخت صرف 250 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق گزشتہ سال 1488ارب روپے کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کرنے والا سیکٹر مقامی سطح پر کس 1200ارب روپے کی مصنوعات کس طرح فروخت کر سکتا ہے؟یہ بات محمد جاوید بلوانی ، چیف کو آرڈینیٹر ، ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر نے پریس و میڈیا کو دیئے گئے بیان میں کی۔ جاوید بلوانی نے مشیر خزانہ کے ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلق مبالغہ آمیز بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرض کریں اگر مشیر خزانہ کی 1200ارب روپے ٹیکسٹائل مصنوعات کی مقامی سطح پرفروخت کا موازنہ اگر ملک کی 22کروڑ آبادی سے کریں تواسے آبادی کی تعداد پر تقسیم کریں تو اس لحاظ سے ہر پاکستان نے ٹیکسٹائل مصنوعات کی خرید پر 5455 روپے خرچ کیے ۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کی اوسط قیمت تقریباً 700روپے ہے اس طرح ہر پاکستان (بڑے اور بچوں)نے سالانہ 8کپڑے کے سوٹ خریدے جو کہ ممکن نہیں کیونکہ پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔