اردو کو سرکاری زبان نہ بنا سکے ، کمیٹی کے اجلاس میں اعتراف

30

اسلام آباد(صباح نیوز)ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کے اجلاس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ آئین کی منظوری پر 15 سال میں اردو زبان کو انگریری کی جگہ سرکاری زبان بنانا تھا مگر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا،کمیٹی میں قراردیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحدملک جہاں تاریخ، قومیت،تہذیب وتمدن، ثقافت اور زبانوں کو اہمیت نہیں دی جاتی، بڑی زبانیں پشتو، بلوچی، سندھی، پنجابی،سرائیکی، بروہی و دیگر کو فروغ دینے کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں۔کسی زبان سے نفرت نہیں کرنی چاہیے، دنیا میں تقریبا 5 ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں، پاکستان میں وہ زبانیں جو ختم ہونے کے قریب ہیں ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے ،دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کی کتابوں کے بڑی زبانوں میں تراجم کے لیے کمیٹی بنائی جائے، بین الاقوامی 7 سو کتابیں اور7 ہزار صفحات کے پاکستان کی بڑی زبانوں میں تراجم کیے جائیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کے کانفرنس ہال میں ہوا۔سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ برائے فروغ قومی زبان کا قیام 1979 میں عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد قومی زبان کے نفاذ، ترویج کیلئے متعلقہ مواد تیار کرنا تھا۔ پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت سے اردو کو فروغ دینے کے ذرائع و سائل پر غور کرنا اور نفاذ کے سلسلے میں تمام ضروری انتظامات کرنا اور سرکاری سطح پر قومی زبان کے جلد ازجلد نفاذ کیلئے وفاقی حکومت کوشفارشات پیش کرنا تھا۔ ادارے کا صدر دفتر اسلام آباد جبکہ 5 ذیلی دفاتر کراچی، سکھر، کوئٹہ،پشاور اور لاہور میں 2001 سے کام کر رہے ہیں۔1973 کے آئین کے مطابق 15 سال میں اردو زبان کو انگریری کی جگہ سرکاری زبان بنانا تھا مگر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
فنکشنل کمیٹی