کراچی بدترین شہر بن چکا ہے،کوئی حکومت نہیں،عدالت عظمیٰ

44

اسلام آباد( آن لائن )عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی پاکستان کا بدترین شہر بن چکا ہے، یہاں کوئی حکومت نہیں، پہلے ہم گھر سے دور جا کر کھیلتے تھے لیکن آج شہر میںہمارے بچے گھر سے نکل بھی نہیں سکتے۔عدالت عظمیٰمیں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے امل عمر قتل کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کے پاس تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، اس کا حال تو بہت برا ہے،کل کراچی میں دن دہاڑے ڈکیتی ہوئی اور بھرے بازار میں گاڑی روک کر 90لاکھ روپے لوٹ لیے گئے،سڑک کے درمیان گاڑیوں کو لوٹا جا رہا ہے، مفرور کھلے عام گھوم رہے ہیں، یہ مفرور سنجیدہ نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں، پولیس ان مفرورں کو پکڑ نہیں سکتی۔انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ جو ترقی کراچی میں ہوئی تھی اب ختم ہو رہی ہے، افسران کو تو بس پیسے جمع کرنے ہیں اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جسٹس گلزار نے ہدایت کی کہ فریقین اپنی معروضات4 ہفتوں میں تحریری طور پر جمع کروادیں اور معروضات کے ساتھ قانونی پوزیشن بھی بتائی جائے، اگر قانون اجازت دے گا تو معروضات پر عمل کا حکم دیں گے۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت عظمیٰ