بھارت کیخلاف شاداب کوڈراپ کرنا پاکستان کو مہنگا پڑسکتا ہے ،وسیم اکرم

43

ٹائونٹن(جسارت نیوز) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ شاداب خان کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا،بھارت کیخلاف پاکستان انڈر پریشر ہوگا لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا، پاکستان ماضی کو بھولے، غلطیوں سے سبق سیکھے اور جاکر اچھا کھیلے، ٹیم کم بیک کرسکتی ہے، حسن علی کو اپنی بولنگ بہتر کرنا ہوگی، ٹی ٹوئنٹی اسٹائل کی بولنگ ون ڈے میں نہیں ہوتی۔سوئنگ کے سلطان کے مطابق پاکستانی ٹیم وکٹ کے پریشر میں آگئی، وکٹ جیسی بھی ہو کوئی اپنا مین بولر ڈراپ نہیں کرتا، شاداب کو ڈراپ کرنا ویسا ہی تھا جیسا آسٹریلیا اپنے دور میں شین وارن کو ڈراپ کردے، شاداب درمیان کے اوور میں وکٹیں دلواسکتا تھا۔انہوں نے پاکستانی فیلڈنگ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی فیلڈ میں کافی سست لگ رہے تھے، کوئی جان نہیں تھی، کپتان وکٹ کے پیچھے کھڑا کتنا شور مچاسکتا ہے، کیچز ڈراپ ہوجاتے ہیں لیکن فیلڈنگ میں پھرتی تو نظر آئے۔ان کا کہنا تھا کہ بیٹنگ میں پارٹنرشپ نہیں لگ سکی جس کی وجہ سے پاکستان ہدف کا تعاقب نہ کرسکا لیکن آخر میں وہاب ریاض اور حسن نے بتایا کہ اگر بیسٹمین وکٹ پر رک جاتے تو رنز بنانا مشکل نہیں تھا۔وسیم اکرم نے کہا کہ وہاب جب کھیل رہا تھا تو میچ جیتنے کی کچھ امید باقی تھی لیکن بس ایک وکٹ کا فرق تھا اور یہی ہوا کہ جب وہ آئوٹ ہوا تو میچ ختم ہوگیا۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حسن علی کو اپنی بولنگ بہتر کرنا ہوگی، ٹی ٹوئنٹی اسٹائل کی بولنگ ون ڈے میں نہیں ہوتی، لینتھ بولنگ کی جاتی تو بہتر ہوتا جیسے آسٹریلیا نے کرائی۔بھارت سے میچ سے متعلق سابق کپتان کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت بہترین فارم میں ہے، پاکستان اس میچ میں انڈر پریشر ہوگا لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا، قومی ٹیم ماضی کو بھولے، غلطیوں سے سبق سیکھے اور جاکر اچھا کھیلے، ٹیم کم بیک کرسکتی ہے۔