شیخ رشید کے دعوے دھرے رہ گئے ریلوے خسارہ 37 ارب سے بڑھ گیا

54

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے محکمے کو خسارے سے نکالنے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے ر ہ گئے، ریلوے کا خسارہ ایک روپے بھی کم نہ کر سکے، ریلوے کا مالی خسارہ37 ارب روپے سے تجاویز کرگیا جبکہ نئے مالی سال2019-20ء میں خسارے کا تحمینہ39 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے کا خسارہ اس سے بھی زیادہ ہے اگر جون کے مہینے کا بھی خسارہ شامل کردیا جائے تو یہ 40 ارب سے تجاوز کرجاتا ہے۔ شیخ رشید پہلے ہی قومی اسمبلی میں ریلوے کا خسارہ ختم نہ کر نے پر وزیراعظم عمران خان سے دوسری وزارت لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2018-19ء میں ریلوے کے کل اخراجات 90 ارب رہے جبکہ ریلوے کو آمدن53 ارب روپے ہوئی، اس طرح آمدن اور اخراجات میں37 ارب روپے کا فرق ہے، ریلوے کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے37 ارب کی امداد فراہم کی جبکہ گزشتہ مالی سال2017-18ء میں 49.56 ارب روپے کمائے تھے جوکہ گزشتہ سال کے نسبت23 فیصد زیادہ تھے جبکہ خسارہ ریلوے کی طرف سے37 ارب روپے بتایا گیا تھا۔ مالی سال2019-20ء کے لیے ریلوے کا کل بجٹ 97 ارب 1 لاکھ رکھا گیا ہے جس میں سے ریلوے کو 58 ارب کمانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے جبکہ ریلوے کو 39 ارب روپے کا خسارہ ہوگا۔ مالی سال 2018-19ء میں ملازمین کی تنخواہ پر 27 ارب، ریلوے آپریشن پر 20.9 ارب، ملازمین کی پنشن پر31.6 ارب اور تعمیر و مرمت پر7.89 ارب سے زائد کی رقم خرچ ہوئی جبکہ سود کی ادائیگی پر بھی1ارب روپے خرچ کیے گئے۔ نئے مالی سال2019-20ء میں ملازمین کی تنخواہ کے لیے29.5 ارب، ریلوے آپریشن کے لیے22.8 ارب، ملازمین کی پنشن کے لیے33.3 ارب اور تعمیر و مرمت کے لیے8.5 ارب سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے جبکہ سود کی ادائیگی پر بھی1ارب 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ریلوے کے خسارے میں اضافے سے متعلق جب وزارت ریلوے کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر کسی قسم کا موقف دینے سے صاف انکار کردیا۔