عمران خان کی گستاخانہ تقریروزیراعظم نے معافی نہ مانگی تو حکومت گرادیں گے،مذہبی جماعتیں

58

لاہور(نمائندہ جسارت) عمران نیازی اپنے دین دشمن بیان پر اللہ اور اس کے رسول ؐ اور ملت اسلامیہ سے معافی مانگیں بصورت دیگردین اسلام سے بیزار بیانات نہ صرف ان کے زوال کا باعث بنیں گے بلکہ ان کی جعلی حکومت کا سورج غروب کردیںگے۔یہ بات ورلڈ پاسبان ختم نبوت کے سربراہ علامہ محمد ممتاز اعوان ، جے یوآئی کے رہنما حافظ حسین احمد، جے یوپی کے رہنما مفتی عاشق حسین رضوی، جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، تحریک ختم نبوت کے رہنما مولانا محمدالیاس چنیوٹی (ایم ،پی ،اے)مسلم لیگ علما و مشائخ ونگ کے چیئرمین پیر ولی اللہ شاہ بخاری، جمعیۃ اہلحدیث کے رہنما مولانا محمدنعیم بادشاہ، جمعیۃ اہل سنت کے سربراہ مولانا محمدحنیف حقانی، تنظیم علما و مشائخ اہلسنت کے رہنما پیرطارق محمود نقشبندی ،مجلس احرار اسلام کے رہنما میاں محمداویس،مصطفائی جسٹس موومنٹ کے چیئر مین میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ، جمعیت علما اہل سنت کے سربراہ مولانا غلام حسین نعیمی ، متحدہ علما کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا محمداسلم ندیم نقشبندی ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی، مبلغ لاہور مولانا عبدالنعیم، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا سید ضیا الحسن شاہ اور مولانا عبدالعزیز نے اپنے مشترکہ بیان میںکی ۔ انہوں نے اصحاب رسول ؓ کی اہانت کرنے پر سلیکٹڈ وزیراعظم کے بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے اسلام سے کھلی بیزاری قراردیا ہے۔مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ عمران نیازی نے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے اور اب جبکہ رسول اللہ ؐ کے تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام ؓ کی اہانت کر کے یہودیوں و قادیانیوں کو خوش کیا ۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اپنے اس دین دشمن بیان پر اللہ اور اس کے رسول ؐ اور ملت اسلامیہ سے معافی مانگیں بصورت دیگردین اسلام سے بیزار بیانات نہ صرف ان کے زوال کا باعث بنیں گے بلکہ ان کی جعلی حکومت کا سورج بھی غروب کردینگے۔علما نے کہا کہ عمران خان کا بیان اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کے سراسر منافی ہے جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ انہوں نے کہا ذمے دار مناصب پر فائز لوگوں کوغیر ذمے دارانہ طرز عمل اور بیانات سے گریز کرنا چاہیے،دینی رہنمائوں نے کہا کہ عمران خان سے سرزد ہونے والی غلطی سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا کہ ہمارے نظام تعلیم میں اصلاحات اور بنیادی اسلامی تعلیمات کی شمولیت کی کس قدر ضرورت ہے۔