جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت خارج ، سجاد عباسی ہائیکورٹ سے گرفتار

38

اسلام آباد (آن لائن )جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت خارج ہونے پرنیب نے ملزم ایگزیکٹو ڈائریکٹر لینڈ سجاد عباسی کواسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کر لیا۔گزشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ میں ملزم کی درخواست ضمانت پرسماعت کے دوران عدالت کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کاکہنا تھاکہ پاکستان کو کیا لوٹ کا مال سمجھ رکھا ہے جو آئے اور کھا کے چلتا بنے؟ عدالت نے استفسارکیاکہ اس کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ملزم کیوں نہیں بنایا؟ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ سمری پر5 لوگوں کے دستخط تھے ملزم صرف ایک کو کیوں بنایا؟ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم سجادعباسی کی درخواست ضمانت مستردکردی جس پر وہاں موجود نیب حکام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔علاوہ ازیںاحتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹوجج محمد بشیرکی عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتارداوری مورکاس کے جسمانی ریمانڈمیں مزید7روزکی توسیع کردی۔نیب حکام نے گزشتہ روزملزم داوری مورکاس کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرعدالت میں پیش کرتے ہوئے تفتیش کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پرعدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیااور ہدایت کی کہ ملزم داودی مورکاس کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر 20 جون کودوبارہ عدالت پیش کیاجائے۔دوسری جانب احتساب عدالت نمبر2کے جج محمد ارشدملک کی عدالت نے جعلی بنک اکائونٹس کے پنک ریزیڈنسی کیس میں آئندہ سماعت پرتمام ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔گزشتہ روز سماعت کے دوران پنک ریزیڈنسی ریفرنس میںگرفتارمحمد شبیر، آفتاب میمن، عبدالجبار میمن سمیت 15 ملزمان کوعدالت پیش کیا گیا جبکہ عبدالغنی مجید کو کراچی ملیر جیل سے احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش نہیں کیا جا سکا،جس پرعدالت نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کیا وجہ ہے کہ عبدالغنی مجید کو آج بھی پیش نہیں کیا گیا ہے، جس پروکیل صفائی نے کہا کہ عبدالغنی مجید بیمار ہیں اس لیے شاید پیش نہیں کر رہے ہیں جبکہ ملزم زین ملک بیماری کے باعث عدالت پیش نہ ہو سکے جبکہ علی ریاض کی غیرحاضری سے متعلق عدالت کے استفسارپران کے وکیل نے بتایاکہ علی ریاض ملک سے باہر ہیں اور ان جان کو خطرہ ہے۔ اس موقع پر زین ملک اور علی ریاض کی حاضری سے استثنا کی درخواست دی گئی جسے عدالت نے منظورکرلیااور ہدایت کی کہ اگلی سماعت کو تمام ملزمان حاضری یقینی بنائیں تاکہ ان کو ملزمان کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کی جائیں گی۔عدالت نے ریفرنس کی سماعت 26 جون تک ملتوی کردی۔