تعلیمی بجٹ میں کمی‘ اسلامی جمعیت طلبہ کا پارلیمنٹ پر احتجاج کا اعلان

55

اسلام آباد (نمائندہ جسارت)اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے تعلیم کے بجٹ میں20فیصد کمی کیخلاف پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے احتجاج کااعلان کردیا،اس بات کااعلان ناظم اعلیٰ محمدعامرناگرہ نے نیشنل پریس کلب میں اسسٹنٹ سیکرٹری جمعیت راجہ عمیر، ناظم صوبہ پنجاب شمالی شاہ زیب احمد،ناظم صوبہ خیبرپختونخوا شکیل احمدمرکزی سیکرٹری اطلاعات رانا محمدعثمان اورناظم اسلام آباد سید تصورکاظمی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جمعیت کے سربراہ نے کہاکہ تعلیم کافروغ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں کہیں نظرنہیں آتااپنی عیاشیوں کیلیے بجٹ مختص کرنیوالے حکمرا ن نے تعلیم جیسے اہم شعبے کے بجٹ میں 20فیصد کمی کرکے تعلیم دشمنی کاثبوت دیاہے۔ناظم اعلی نے حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیم کو سرے سے اپنی ترجیحات سے نکال دیاہے۔انسانوں پرخرچ کرنے کی دعوے دار پی ٹی آئی گورنمنٹ نے تعلیمی بجٹ پر ڈاکہ مارکرتعلیم دشمنی کا ثبوت دیا۔ حکومت نے وفاقی تعلیمی بجٹ میں 20% فی صد کمی کردی۔ حکومت نے مالی بجٹ 2019-20ء میں ایجوکیشن افئیرز کے لیے محض ۷۷ ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جب کہ گزشتہ حکومت نے اس مدمیں ۷۹ ارب روپے رکھے تھے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ رقم 20% فی صد کم ہے۔ اسی طرح ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے ۹۲ ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ گزشتہ حکومت نے ۵۳ ارب روپے مختص کیے تھے۔ اس طرح ہائیرایجوکیشن کے بجٹ میں ۶ ارب روپے کی کمی کردی گئی ہے۔ جب کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن نے ۵۵ ارب روپے مختص کرنے کی درخواست کی تھی۔ ہائیرایجوکیشن کے بجٹ میں کمی سے جامعات میں فیسوں میں اضافہ ہوگا جس سے غریب کے لیے تعلیم کا حصول مزید مشکل ہوجائے گا جب کہ بیرون ملک ایچ ای سی کے تحت سکالر شپ پر زیرتعلیم طلبہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان اپنے جی ڈی پی کا 2.1% فی صد تعلیم پر خرچ کرتاہے جو اس خطے کے تمام ممالک بشمول بھارت،ایران،سری لنکا،بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی کم ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے جی ڈی پی کا چار فی صد حصہ تعلیم کے لیے مختص کیاجائے۔ اس وقت پاکستان میں دو کروڑ بیس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ 72 سال گزرنے کے باوجود شرح خواندگی85 فی صدہے۔ جوکہ حکمرانوں کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ طلبہ تعلیمی بجٹ میں کمی کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور اسلامی جمعیت طلبہ آج سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کرے گی۔ تمام صوبائی اسمبلیوں کے باہر بھی صوبائی بجٹ میں اضافے کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔