وفاقی بجٹ میں کراچی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے ‘حافظ نعیم

52

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ 2018-19میں ہمیشہ کی طرح کراچی کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے۔ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور قومی خزانے میں تقریبا 70فیصد ریونیو جمع کراتا ہے، ڈھائی کروڑ کی آبادی والا یہ شہر جو آج بے شمار مسائل اور مشکلات کا شکار ہے اس کے لیے صرف 45 ارب روپے مختص کرنا نہ صرف کراچی کے عوام کے ساتھ بدترین مذاق بلکہ سراسر ظلم وناانصافی ہے۔پہلے سے جاری اسکیموں میں پیسے دیے گئے ہیںاس کا مطلب کوئی نیا کام نہیں ہوگا اور صورت حال بد سے بدتر ہوجائے گی، پانی کی فراہمی کی ایک اسکیم K-4 کی ہی لاگت 60 ارب سے زیادہ ہے یہ رقم تو ایک اسکیم کے لیے بھی کافی نہیں،گزشتہ دورے کے موقع پر عمران خان نے کراچی کے لیے 126 ارب کا وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا نہیں کیا گیا،جماعت اسلامی نے 500 ارب کے پیکج کا مطالبہ کیا تھا جسے سٹی کونسل نے بھی منظور کیااس پر عمل درآمد کے بغیر کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے ،کراچی سے تبدیلی کے نام پر بجٹ میں مذاق کیا گیا ہے ،تینوں جماعتیں حکومت میں ہونے کے باوجود ناکام ہوگئی ہیں ان سے کوئی امید باقی نہیں رہی ،جماعت اسلامی کراچی کے لیے حقیقی تبدیلی اور امید کا پیغام ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت بھی عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے، وفاقی بجٹ کے آمد سے قبل ہی مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی تھی، بجٹ نے عوام پر مزید عذاب مسلط کردیا ہے، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ایما اور ہدایات پر تیار کردہ بجٹ کسی بھی طرح عوام دوست بجٹ نہیں ہے، بجٹ میں سارا زور ٹیکسوں اور اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھانے پر لگایا گیا ہے، گھی، تیل چینی اور گوشت جیسی اشیاء￿ کی قیمتوں میں تو اضافہ کردیا گیا ہے لیکن موبائل فون سستے کردیے گئے ہیں جس سے حکومت عوام کو کون سا ریلیف دینا چاہتی ہے۔بجٹ میں 700ارب روپے کے مزید ٹیکسز لگائے گئے ہیں جس کا نتیجہ لازمی طور پر مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ہی نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے،مہنگائی تو 100فیصد سے بھی زائد بڑھ چکی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو کہ ناکافی ہے جب کہ مزدور کی کم سے کم اجرت بھی صرف ساڑھے سترہ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جس میں ایک غریب مزدور کو اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہر بجٹ کی طرح اس بجٹ میں بھی بیرونی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کے لیے بڑی رقم رکھی گئی ہے جو مجموعی اخراجات کا 44فیصد بنتی ہے اور پی ٹی آئی حکومت نے ملک اور قوم پر نئے قرضوں کا بوجھ ڈال کر سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہی کیا ہے کوئی کمی نہیں کی۔