نہروں میں پانی کی قلت کا ذمے دار محکمہ آبپاشی ہے، آبادگار

56

 

قنبر علی خان (نمائندہ جسارت) وارہ بیراج آر ڈی 268 دوست علی ریگولیٹر سے نکلنے والی پنہوارو شاخ میں پانی کی شدید قلت پر قمبر کے مختلف دیہات کے سیکڑوں آبادگاروں نے محکمہ آبپاشی کے نااہل افسران کیخلاف گاؤں حافظ محمد میمن سے قنبر شہر تک 25 کلو میٹر تک پیدل لانگ مارچ کیا اور شدید گرمی میں سخت نعرے بازی کرتے ہوئے پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا۔ اس موقع پر آبادگار گل محمد جونیجو، غلام قادر چانڈیو، نادر اور عرس کوری سمیت دیگر آبادگاروں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر اور ان کے کرپٹ عملے نے پنہوارو شاخ میں زرعی پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی ہے جس کی وجہ سے اس وقت پہنوارو شاخ میں ریت اڑ رہی ہے اور غریب آبادگاروں نے زرعی پانی نہ ہونے کی وجہ سے ماہ جون تک دھان کا بیج بھی نہ بویا ہے جس سے اس سال دھان کی فصل کے نہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جس سے آبادگار معاشی بدحالی اور فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار ہیں آبادگاروں نے کہاکہ زرعی پانی کی قلت مصنوعی ہے، بااثر سیاسی اور حکومتی شخصیات نہری پانی چوری کرکے اپنی زمینیں سیراب اور آباد کررہے ہیں اور قنبر کے پہنوارو شاخ کے علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی ویران اور برباد کرکے پورے علاقے کی زرعی معیشت تباہ کردی ہے جس سے لوگ ہر سال کی طرح اس سال بھی زرعی پانی کی سخت قلت کے باعث پریشان ہیں اور نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ مقررین نے کہاکہ دوست علی ریگولیٹر سے جو سیم شاخ کراس کررہی ہے اس سیم شاخ کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور وارہ بیراج میں زرعی پانی کی اوسط کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے دوست علی ریگولیٹر کے نزدیک کروڑوں روپے کی جامع اسکیم کے تحت واٹر پمپنگ اسٹیشن قائم کی مگر وہ منصوبہ بھی سرخ فیتے کی لعنت کا شکار ہوگیا اور تاحال واٹر پمپنگ اسٹیشن بند ہے جس سے آبادگار سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں، آبادگاروں نے کہاکہ اگر پہنوارو شاخ میں زرعی پانی کی مصنوعی قلت کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا تو ہم سخت احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے جس کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔