تحقیقات کا آغاز مشیر خزانہ سے کیا جائے

145

وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جو گزشتہ دس برس کے دوران میںملک میں قرض لینے کی تحقیقات کرے گا ۔ یہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن انٹیلی جینس بیورو، آئی ایس آئی ، ایف آئی اے ، ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر مشتمل ہوگا جبکہ وزیر اعظم عمران خان براہ راست اس کمیشن کی نگرانی کریں گے یعنی اس کے سربراہ وہ خود ہوں گے ۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس میںملک پر 24 ہزار ارب روپے کے قرضوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ۔ بعد ازبجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے درآمد شدہ مشیربرائے امور خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ قرضہ جات تحقیقاتی قومی کمیشن جلد قائم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ،31 ہزار ارب روپے کے قرضوں کے حصول اور انہیں خرچ کیے جانے کا قومی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا وزیراعظم عمران خان کا صوابدیدی اختیار ہے، اس کے اصول و ضوابط اور اس کی تشکیل کا باضابطہ اعلان جلد کیا جائے گا ۔ کمیشن قائم کرنے کا اعلان سننے میں انتہائی پرکشش ہے مگر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔کیا عمران خان یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ قرض لینے میں گڑ بڑ کی گئی یعنی کہ زیادہ سود پر قرض کی شرائط طے کی گئیں اور اس کے بدلے میں قرض دینے والے اداروں یا بینکوں سے کک بیکس لیے گئے یا پھر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ قرض فضول منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے اور ان منصوبوں کی تکمیل میں لوٹ مار کی گئی ۔ اگر عمران خان کا موقف دوسرا والا ہے تو قرض کی تحقیقات سے کیا حاصل ہوگا ،بہتر ہوگا کہ ہر منصوبے کی تفصیلی جانچ کی جائے اور اس میں لوٹی گئی رقم کے مجرموں کی نشاندہی بھی کی جائے اور ان سے یہ لوٹی گئی رقم واپس لینے کا اہتمام بھی کیا جائے ۔ بصورت دیگر یہ کمیشن بھی ملک کے بجٹ پر ایک بوجھ ہی ثابت ہوگا ۔ عمران خان گزشتہ دس برس کی بات کررہے ہیں تو یہ انتہائی آسان ہے کہ اس کا آغاز عبدالحفیظ شیخ ہی سے کیا جائے جو زرداری دور میں وزیر خزانہ رہے اور تمام قرضہ جات کے ذمہ دار تھے ۔ اگر گزشتہ پروجیکٹوں کی جانچ کرنی ہے تو بھی اس کا آغاز موجودہ حکومت کے وزیروں اور مشیروں سے کیا جاسکتا ہے جو گزشتہ دس برس میں اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ۔ پاکستان پر بیرونی قرضے کی مالیت 100 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ یہ مالیت براہ راست حاصل کیے گئے قرضے کی ہے ۔ اس میں بلوں کی ادائیگیاں اور دیگر واجبات شامل نہیں ہیں ۔ اسی طرح سرکار نے جو قرض بینک دولت پاکستان اور دیگر بینکوں سے لیا ہے ، اس میں وہ بھی شامل نہیں ہے ۔ جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ 104 روپے تھی ۔ اس طرح یہ قرض پاکستانی روپوں میں 10,400 ارب روپے کے مساوی تھا ۔ اس وقت ڈالرکے مقابلے میں روپے کی شرح تبادلہ 154 روپے ہے ۔ موجودہ شرح تبادلہ کے لحاظ سے 100 ارب ڈالر کا قرض پاکستانی کرنسی میں 15,200 ارب روپے کا ہوچکا ہے ۔ یعنی صرف اور صرف روپے کی بے قدری کے نتیجے میں پاکستانی قوم پر 4,800 ارب روپے کے قرض کا اضافہ ہوگیا ۔ اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں نکلا ہے بلکہ ہر ادائیگی میں اسی تناسب سے اضافہ ہوگیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے نمائندہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا گردشی قرضہ 1100 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہے ہیں مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں سے بجلی امریکی سینٹ میں خریدنے کے معاہدے کیے گئے ہیں ۔ یعنی جیسے ہی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہوتی ہے ، اسی کے ساتھ ان کمپنیوں کا سرکار پر قرضہ خود کار طریقے سے بڑھ جاتا ہے ۔ کیا عمران خان روپے کی اس بے قدری کی تحقیقات کے لیے بھی کوئی کمیشن تشکیل دیں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ روپے کی بے قدری کے نتیجے میں ان کے اپنے ایک سال سے بھی کم دور حکومت میں کسی سے نیا قرض لیے بنا ہی پاکستانی قوم پر 5000 ارب روپے سے زائد کے واجبات بڑھ گئے ہیں ۔ معیشت منجمد ہوکر رہ گئی ہے اور پاکستان کا شمار بے روزگاری کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے ۔ عمران خان ٹیکس وصولی کی بات کرتے ہیں ، مگر کسی کے پاس روزگار اور کاروبار ہوگا تو ملک کو ٹیکس ملے گا ۔ اصولی طور عمران خان کو ملک کو مصیبت زدہ قرار دے کر معیشت کی بحالی کے ہنگامی اقدامات کرنے چاہییں جن میں ٹیکس کا ریلیف بھی شامل ہے ۔ اس کے بجائے انہوں نے کے الیکٹرک اور گیس کمپنیوں کا طریق کار اختیار کرنا شروع کیا ہے ۔ اس طریق کار کے تحت ایک کمرے کے مکان کا بجلی کا بل بھی لاکھوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور اسے درست بھی نہیں کیا جاتا ۔ یہ بل صارف کو بھرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور عدم ادائیگی پر اسے نادہندہ قرار دے کر پوری ریاستی مشینری اس کے خلاف استعمال کرلی جاتی ہے ۔ عمران خان لیے گئے قرضوں کے بارے میں ضرور تحقیقات کریں اور اگر کسی نے غیر ضروری قرض لیے ہیں تو اسے عدالتی کٹہرے میں بھی کھڑا کیا جائے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں میں بھی نگاہ ڈالیں اور ان الیکٹبلزکے خلاف بھی کارروائی کریں جو گزشتہ حکومتوں میں کرپشن میں ملوث رہے ہیں ۔ بلاضرورت قرض لینا اور اس کا غلط استعمال یقینا قومی جرم ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہیے مگر ان کے خلاف بھی تو کارروائی کی جائے جنہوں نے روپے کی زبردست گراوٹ کے ذریعے ملک کی معاشی بنیادوں تک کو تباہ کردیا ہے ۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کی جس ٹیم کو پاکستانی وزارت خزانہ کا ٹھیکا دیا ہے وہ مسلسل ملک کی بنیادوں کو روپے کی بے قدری کے ڈائنامائیٹ سے اڑا رہی ہے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سابقہ سوویت روس کسی فوجی شکست کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ اس کی بری معاشی حالت نے ایک سپر پاور کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا تھا۔