مولانا فضل الرحمن کا صائب مشورہ

175

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بڑی درد مندی سے توجہ دلائی ہے کہ یہ عوام پر کرب کا وقت ہے ۔ سیاسی قوتیں عوام کے ساتھ اب کھڑی نہیں ہوں گی تو پھر کب کھڑی ہوں گی ۔ ہم ریاستی اداروں کے خلاف نہیں لیکن ریاستی اداروں کو سیاست کے بجائے ملکی سرحدوں پر نظر رکھنی چاہیے ۔ مولانا فضل الرحمن کا مشورہ صائب ہے اس ملک کے معاملات کی خرابی کی جڑ بھی یہی ہے کہ ادارے اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کاموں میں اُلجھ جاتے ہیں ۔ سیاست میں ریاستی ادراوں کی دخل اندازی سے سیاست بھی خراب ہوتی ہے اور ریاست بھی بد نظمی کا شکار ہوتی ہے ۔لہٰذا اصولاً تو یہ بات درست ہے کہ ادارے سیاست کے بجائے سرحدوں پر توجہ دیں ۔ لیکن اس خرابی کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ سیاستدان ریاستی اداروں کے مرغان بادنما بن جاتے ہیں ۔ اور دیکھتے ہیں کہ صاحب کی ابرو پر کسی وجہ سے بل تو نہیں پڑے، وہاں سے کیا اشارہ آ رہا ہے وغیرہ وغیرہ … اگر سیاستدان ریاستی اداروں کے اشاروں کے غلام بنیں گے تو ادارے بھی سیاست میں دخیل ہوں گے ۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔ جو لوگ سیاست میں آتے ہیں وہ سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں ۔ اگر سیاسی قیادت چاہتی ہے کہ ملک کا مسئلہ ایک مرتبہ حل ہو جائے تو وہ اپنا صحیح کردار اختیار کریں ۔ کسی دبائو میں آئے بغیر قومی مفاد کی بات کریں۔ اپنے دائرے کو مضبوط بنائیں ۔ آپس کے اختلافات پر ریاستی اداروں کو مداخلت کے لیے نہ بلایا کریں ۔ جب سیاستدان یہ وتیرہ ترک کر دیں گے اپنا دائرہ اور حدود مضبوط کر لیں گئے تو ادارے بھی اپنی حدود میں رہیں گے ۔