قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ

121

صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے توایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرامگاہ!۔ رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقینا ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ ان کے لیے سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!۔ (سورۃ الکہف:29تا 31)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی ادائیگی کے لیے آیا، توجہ سے سنا، خاموش رہا، تو اس کے اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید 3 دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے کنکری کو چھوا اس نے لغو (بے مقصد) کام کیا۔ (گویا جو فرش کی کنکریوں یا موبائل فون وغیرہ سے کھیل رہا ہے وہ متوجہ نہیں)(مسلم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے جب تک کہ اس سے ان چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کرلیے جائیں: جوانی کو کن کاموں میں کھپایا۔ زندگی کن کاموں میں گزاری۔ مال کہاں سے کمایا۔ اور کن کاموں میں خرچ کیا۔ جو علم حاصل کیا تھا اس پر کتنا عمل کیا؟‘‘ (ترمذی)