اردو اور مغرب زدگان

346

داغ دہلوی نے کہا تھا
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
داغ نے جو بات کبھی شعر میں کہی تھی اردو کے معروف نقاد اور ماہر اقبالیات فتح محمد ملک وہی بات نثر میں کہتے ہیں۔ اس لیے کہ داغ کی طرح انہیں بھی اردو سے محبت ہے۔ اردو سے ان کے تعلق کا یہ عالم ہے کہ ایک بار انہوں نے فرمایا تھا کہ اردو پنجاب کی مادری زبان ہے۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا مگر فتح محمد ملک اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ ہماری نظر سے کچھ برس پہلے ان کا ایک مضمون بھی گزرا تھا۔ اس مضمون میں ملک صاحب نے فرمایا تھا کہ پنجابی اردو کی قدیم شکل ہے اور اردو پنجابی کی جدید صورت ہے۔ ہمیں یہ باتیں ڈان میں ڈاکٹر رئوف پاریکھ کا حالیہ کالم پڑھ کر یاد آئیں۔ یہ کالم فتح محمد ملک کی نئی تصنیف کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ ملک صاحب کی نئی تصنیف کا عنوان ہے۔ ’’اردو زبان ہماری پہچان‘‘۔ ملک صاحب نے اپنی نئی تصنیف میں زبان بالخصوص اردو کے حوالے سے کئی دلچسپ قصے بیان کیے ہیں۔
ملک صاحب کے بقول اسلام آباد میں فرانس کے قومی دن کے موقع پر ایک تقریب برپا ہوئی۔ پاکستان میں فرانس کے سفیر نے تقریب سے اردو میں خطاب کیا۔ حالاں کہ فرانسیسیوں کا ’’لسانی تعصب‘‘ مشہور زمانہ ہے۔ پاکستان کے وزیر قانون کی باری آئی تو انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز اردو میں کیا مگر چند فقروں کے بعد انہوں نے انگریزی میں گفتگو شروع کردی۔ اس صورتِ حال پر تقریب میں موجود پاکستانیوں نے بڑی شرمندگی محسوس کی۔ انہیں خیال آیا کہ فرانسیسی سفیر تو اردو میں تقریر کرسکتا ہے مگر ہمارے وزیر صاحب اردو سے واقف ہونے کے باوجود انگریزی میں تقریر کرتے ہیں۔ آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ ہمارے وزیروں اور مشیروں یا حکمرانوں کو بڑی اچھی انگریزی آتی ہے۔ فتح محمد ملک نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے بھی ایک واقعے کا تذکرہ کیا ہوا ہے۔ ان کے بقول کافی عرصہ قبل ہمارے ایک وزیراعظم نے جرمنی میں جرمن صنعت کاروں کی ایک تقریب سے انگریزی میں خطاب کیا۔ فتح محمد ملک کے برابر میں بیٹھے ہوئے ایک جرمن نے ان سے پوچھا آپ کا وزیراعظم کس زبان میں خطاب کررہا ہے؟ ملک صاحب نے جرمن باشندے کا سوال اَن سُنا کردیا مگر جب اس جرمن باشندے نے اپنا سوال دہرایا تو ملک صاحب کو احساس ہوا کہ وزیراعظم ایسے لب و لہجے میں انگریزی بول رہے ہیں کہ اُن کا ایک لفظ بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا۔
ہمیں پچیس سال قبل ایک صاحب نے ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عرب ملک میں موجود پاکستانی برادری نے یوم اقبال کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب میں پاکستانی سفیر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ سفیر صاحب تقریر کرنے اُٹھے تو نشے کی وجہ سے ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ وہ مائک پر آئے اور انگریزی میں ایک ’’لازوال فقرہ‘‘ کہا۔ انہوں نے فرمایا۔
ـ”Ladies and gentlemen, you know Iqbal was a great poet.”
یہ فقرہ بھی انہوں نے لڑکھڑاتی ہوئی انگریزی میں ادا کیا۔ چناں چہ تقریب کا انعقاد کرنے والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سفیر سے کہا کہ آپ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔
یہ واقعہ آپ نے شاید پہلے بھی کہیں پڑھا یا سنا ہو کہ ٹوکیو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے طلبہ کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر آیا تو ہماری ایک جامعہ کے صدر شعبہ اردو نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا۔
“I am the head of the urdu department”
فتح محمد ملک نے چین کے سابق وزیراعظم چوئن لائی کا ایک اہم اور معنی خیز واقعہ بھی اپنی تصنیف میں تحریر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ چوئن لائی پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے چینی زبان میں خطاب کیا۔ ایک چینی مترجم ان کی گفتگو کا انگریزی میں ترجمہ کررہا تھا۔ مترجم نے چوئن لائی کے کسی فقرے کا درست ترجمہ نہ کیا تو چوئن لائی نے انگریزی میں مترجم کو روکا۔ پاکستان ٹائمز کے سینئر صحافی ایچ کے برکی نے پریس کانفرنس کے اختتام پر چوئن لائی سے پوچھا کہ جب آپ انگریزی جانتے ہیں تو آپ نے انگریزی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیوں نہیں کیا۔ چوئن لائی نے کہا۔
’’کیوں کہ ہم گونگے نہیں ہیں‘‘
دُنیا کے تمام آزاد لوگ چوئن لائی کی طرح سوچتے ہیں مگر پاکستان کے حکمران اور مغرب زدہ طبقے کا قصہ یہ ہے کہ وہ رومانی معنوں میں بھی غلام ہے، تہذیبی معنوں میں بھی غلام ہے، ذہنی معنوں میں بھی غلام ہے، نفسیاتی معنوں میں بھی غلام ہے۔ چناں چہ یہ طبقہ لسانی معنوں میں بھی غلام ہے۔
اردو صرف ایک زبان نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے۔ اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے بعد ہماری سب سے بڑی مذہبی زبان ہے۔ اس دعوے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اردو واحد زبان ہے جو برصغیر کی ملت اسلامیہ کے مشترکہ تہذیبی تشخص کو بیان کرتی ہے۔ اس دعوے کی تیسری دلیل یہ ہے کہ جس چیز کو برصغیر کی ملت اسلامیہ کا مشترکہ تاریخی تجربہ کہا جاتا ہے وہ صرف اردو کے وسیلے سے بیان ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ برصغیر میں جس شخص کی جڑیں اردو میں پیوست نہیں وہ اپنے مذہب سے کٹا ہوا شخص ہے۔ جس شخص کا اردو سے تعلق نہیں اس کا برصغیر کی ملت اسلامیہ کے مشترکہ تہذیبی تجربے سے کوئی تعلق نہیں اور جس شخص کو اردو نہیں آتی برصغیر کی ملت اسلامیہ کے مشترکہ تاریخی تجربے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اور جو شخص یہ تمام باتیں نہیں جانتا وہ شخص تشخص کے بدترین بحران میں مبتلا ہے اور اپنی اصل میں وہ ایک بیمار آدمی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے انگریزی داں طبقے کی عظیم اکثریت کا سب سے بڑا مسئلہ تشخص کا یہی بحران ہے۔ آپ پاکستان کے انگریزی مصنفین بالخصوص فکشن لکھنے والوں کو پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ لوگ مذہبی، تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے نہ ’’He‘‘ ہیں نہ ’’She‘‘ ہیں۔ انگریزی اخبارات کے کالم نویسوں کے موضوعات کا ہمارے مذہب، تہذیب اور تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھی مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور لسانی اعتبار سے نہ ’’He‘‘ ہوتے ہیں نہ ’’She‘‘ ہوتے ہیں۔
گونگے پن کو دیکھنا ایک ہولناک تجربہ ہے اس لیے چوئن لائی نے کہا تھا کہ ہماری ایک زبان ہے ہم گونگے نہیں ہیں مگر پاکستان کے مغرب زدگان مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور لسانی گونگے پن پر فخر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مغرب زدگان حیوانوں سے بھی بدتر ہیں اس لیے کہ حیوانوں کی بھی ایک اپنی زبان ہوتی ہے۔ شیر اور ہاتھی ہی نہیں مینڈک اور چیونٹیاں تک اپنی زبان میں بات کرتی ہیں۔ حضرت سلیمانؑ کا لشکر جنگل سے گزر رہا تھا کہ کچھ چیونٹیوں نے دوسری چیونٹیوں سے کہا ’’ایک طرف ہوجائو ورنہ سلیمانؑ کا لشکر تمہیں کچل دے گا‘‘۔ مگر ہمارے مغرب زدگان نہ خوشی میں اپنی زبان استعمال کرتے ہیں نہ غم میں، نہ خوف میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہ خوشیوں کو پوری طرح محسوس کرپاتے ہیں نہ غم، نہ خوف۔ ہمارے مغرب زدگان انگریزی کو ترقی کی زبان کہتے ہیں مگر کہنے والے انہیں یاد دلاتے تھے کہ جاپانیوں، اطالویوں، جرمنوں اور فرانسیسیوں نے اپنی زبان میں ’’ترقی‘‘ کی۔ مغرب زدگان کی بدقسمتی سے اب چینیوں نے بھی اپنی زبان میں ترقی کرکے دکھادی ہے۔ انگریزی اور ترقی کا نعرہ ہمارے لیے پہلے ہی بے معنی تھا مگر اب چینیوں کی ترقی نے مقامی زبان کی اہمیت کو بہت بڑھا دیا ہے۔ مغرب زدگان انگریزی شاعری کی عظمت کے گن گاتے ہیں اور اسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان قرار دیتے ہیں مگر انہوں نے گزشتہ دو سو سال میں نہ انگریزی میں بڑی شاعری پیدا کرکے دکھائی، نہ بڑا افسانہ اور بڑا ناول خلق کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے انگریزی کی اہلیت سے بڑی سائنس اور بڑی ٹیکنالوجی بھی پیدا کرکے نہیں دکھائی۔ اس کے برعکس اردو نے بڑے شاعر بھی پیدا کیے ہیں، بڑے افسانہ نگار اور بڑے ناول نگار بھی، بڑا مذہبی لٹریچر بھی پیدا کیا ہے اور بڑی تنقید بھی۔ اردو کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان بنایا جائے گا تو اردو بڑی سائنس اور ٹیکنالوجی بھی پیدا کرکے دکھائے گی۔