پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں

143

ڈاکٹر سید محبوب
کسی بھی ملک کی پائدار معاشی ترقی، قومی استحکام، سیاسی آزادی اور دُنیا میں باوقار مقام کے حصول کے لیے خود انحصاری، خود کفالت، سخت محنت، قومی دیانت کا بحیثیت کلچر اپنانا، معیاری تعلیم تک یکساں رسائی کو سانس اور ہوا کی مانند ضروری اور اہم قرار دینا، ٹیکنالوجی کی مہارت، حصول اور ہنر مندی کی ترویج کو اپنی پالیسیوں میں اولین ترجیحات میں کہ محض بے حد ضروری ہوتا ہے۔ میرٹ کو اپنائے بغیر، اقربا پروری، موروثیت، سیاسی مصلحت، دولت مند، مراعات یافتہ طبقے کی سیڑھیوں کا استعمال کرکے حکومت میں آنا اور پھر ایسی قیادت کے ذریعے ملک کی پائدار ترقی کا خواب دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے سمندر کو تیر کر عبور کرنے کی کوشش کرنا۔
قرضے اور امداد کسی بھی ملک کو مشکل حالات میں سنبھالا دینے کے لیے نہایت مختصر مدت کے لیے انتہائی محدود کردار ادا کرتے ہیں لیکن طویل مدت تک ان پر انحصار کرنا، خود کو امداد اور قرض کا عادی بنادینا انتہائی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ یہ قرض کی اس مے کے اجزائے ترکیبی سامراجی عزائم کی فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں اس لیے یہ مے پوری قوم کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ ترقی کا ایک ماڈل چین کا ہے جس کی قیادت نے اعلان کردیا تھا کہ گندم کا ایک دانہ بھی بیرون ملک سے درآمد نہیں کیا جائے گا۔ پوری قوم نے بھوک کا مقابلہ کرنے کے لیے زراعت پر بھرپور توجہ دی، انتھک محنت کا راستہ اپنایا اور پہاروں کے دامن میں بھی اگر کوئی جگہ خالی ملی تو وہاں بھی گندم اُگا دی۔ چیئرمین، وزیراعظم اور پوری قوم نے کھیتوں میں کام کیا، مزدوروں کی طرح فیکٹریوں میں شب و روز محنت کی۔ غیر ملکی اشیا اور کلچر کا بائیکاٹ کیا۔ اپنی زبان اور تہذیب سے منسلک رہے۔ سنگ مرمر پر چلنے کے بجائے اپنی مٹی پر چلنے کا سلیقہ سیکھا اس لیے پھسلے نہیں۔ پاکستان کے ایک معروف صنعت کار کو چین کی ایک بہت بڑی فیکٹری کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس فیکٹری میں 20 ہزار ملازم تھے جو شب و روز محنت میں مصروف تھے۔ ان صنعت کار کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو ڈرل مشین ہاتھوں میں لیے کام کرتے ہوئے دیکھا وہ بنیان پہنے ہوئے اور پسینے میں شرابور تھا جب اس کا تعارف کرایا گیا تو پتا چلا کہ وہ فیکٹری کے جنرل منیجر ہیں۔ صنعت کار ابھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھارہا تھا کہ اسے آگے بڑھنے کے لیے کہا گیا۔ آگے ایک شخص مزدوروں کے ساتھ کارٹن اٹھانے میں ان کی مدد کررہا تھا۔ صنعت کار سے اس شخص کا تعارف کروایا گیا۔ یہ چین شیانگ فیکٹری کے مالک ہیں۔ انہی صنعت کار کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین کے وزیر صنعت کو اپنے دفتر میں صفائی کرتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ وزیر موصوف اپنے لیے پانی کا جگ خود اٹھا کر لائے گویا چپراسی کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا۔ چینی قوم پیچھے مڑ کر دیکھنے کی عادی نہیں وہ کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ کام ان کا کلچر، ان کی تہذیب، ان کی شناخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قوم میں کوئی بھکاری نہیں۔ بے کار اور بے روزگار نہیں۔ اس لیے یہ قوم قرضوں اور امداد کی محتاج نہیں بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا دعویدار امریکا اس کا مقروض ہے۔ ہر امریکی اوسطاً 8 امریکی ساختہ اشیا روزانہ استعمال کرتا ہے۔ پاکستان جس کے ڈاکٹر محبوب الحق کے اقتصادی منصوبوں پر جنوبی کوریا نے عمل کیا اور وہ ایشیائی ٹائیگر بن گیا۔ جنوبی کوریا کی آبادی محض 5 کروڑ ہے لیکن اس کی مجموعی قومی آمدنی 2 ہزار 139 ارب ڈالر ہے۔ فی کس قومی آمدنی 32 ہزار ڈالر ہے۔ 50 کے عشرے میں جنوبی کوریا ایشیا کی غریب ترین قوم تھی لیکن1962ء سے کوریا دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشت میں شامل ہوگیا۔ یہاں تعلیم کی شرح تقریباً 100 فی صد ہے۔ برآمدات 577 ارب ڈالر ہیں۔ جنوبی کوریا کو ترقی کی راہ دکھانے والا پاکستان بدقسمتی سے آزادی کے 72 سال گزر جانے کے باوجود قرضوں پر انحصار کررہا ہے۔ معاشی صورت حال اس قدر گمبھیر ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر سکڑ کر 15.89 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ قرضوں کا حجم 31 ہزار ارب روپے سے تجاویز کرگیا ہے۔
جنرل ایوب خان کے دور میں امریکا اور مغربی ممالک کے لیے اشتراکیت کے خلاف پاکستان کے اہم اتحادی ملک ہونے کے سبب قرضوں کے مقابلے میں امداد کا حجم دگنا تھا۔ مرحوم ضیا الحق کے دور میں بھی امریکی امداد کا حجم زیادہ تھا۔ پھر پرویز مشرف کے دور میں بھی دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی امریکی مفادات کی جنگ کے اخراجات کے نام پر ڈالر آتے رہے لیکن بعد میں پاکستان نے جب اپنے مفادات کو ترجیح دی، چین کے ساتھ تزویراتی شراکت کی، گوادر اور سی پیک کے منصوبوں پر توجہ دی تو امریکی امداد آنا بند ہوگئی، تاہم امداد کے بجائے مالیاتی اداروں سے قرض کی راہ اپنائی گئی۔ گزشتہ پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں نے بھی بے تحاشا قرضے لیے، پھر تبدیلی کی لہر آئی لیکن تبدیلی والوں کے پاس معاشی ترقی کے لیے نہ ہی کوئی ہوم ورک تھا اور نہ ہی قابل اعتماد، باصلاحیت اور بالغ نظر ٹیم تھی۔ نتیجتاً اقتصادی شرح نمو 5.8 فی صد سے گر کر 3 فی صد کی پست سطح پر آچکی ہے۔ افراط زر دہرے ہندسے کو چھو رہا ہے، غیر ملکی قرضے 95 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں، گردشی قرضے 1400 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں۔ ٹیکس کا نظام اس قدر بداعتمادی کا شکار ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کہنے پر مجبور ہیں کہ موجودہ فرسودہ اور اشرافیائی طبقے کو مراعات دینے والا ٹیکس نظام ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں کرسکتا۔ اسٹاک مارکیٹ 54 ہزار پوائنٹس سے گر کر 35 ہزار پوائنٹس پر آگئی ہے۔ حکومت نے حصص مارکیٹ کے لیے 20 رب روپے سپورٹ فنڈ کا اعلان کیا ہے تاہم بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔ ڈالر 151 روپے کی آسمانی شرح کو چھو رہا ہے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس قرضوں کے حصول کے لیے دامن پھیلانا ملک کی مجبوری بن چکا ہے۔ ملک کی 60 فی صد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن 15 فی صد سے زائد نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ ہر سال اوسطاً 8 لاکھ نوجوان گریجویشن کرتے ہیں ان میں سے صرف 3 فی صد اعلیٰ تعلیم کی جانب رجوع کرتے ہیں، جب کہ بقیہ ملازمتوں کے حصول کے لیے کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔ ان پونے آٹھ لاکھ نوجوانوں کے لیے معیشت ملازمتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ مایوس بے روزگار نوجوان انتہا پسندوں، قوم پرستوں اور منفی سیاست کرنے والوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، منشیات فروشوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ منشیات فروش دہشت گردوں سے بھی زیادہ خطرناک اور خوفناک ثابت ہورہے ہیں، لاکھوں نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنادیا گیا ہے۔ صورت حال کی اصلاح کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے ملکی معیشت کی باگ ڈور آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔ مصر میں محمد مرسی کی حکومت گرانے کے بعد جنرل سیسی کے دور میں آئی ایم ایف نے اپنے پنجے گاڑھے اور وہاں افراط زر کی شرح 23 فی صد ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والے ملک ارجنٹائن میں افراط زر 50 فی صد سالانہ ہوگئی۔
(جاری ہے)