جوڑ توڑ کا موسم

163

نواز شریف جیل میں ہیں‘ مریم نواز ضمانت پر ہیں‘ کیپٹن صفدر اپنی سزا مکمل کرنے والے ہیں‘ حسن نواز اور حسین نواز عدالتی فیصلے کی رو سے مفرور ہیں‘ اب آصف علی زرداری بھی گرفتار کرلیے گئے ہیں‘ حمزہ شہباز بھی نیب کی تحویل میں جاچکے ہیں‘ لندن سے الطاف حسین کی گرفتاری اور رہائی ہوئی ہے‘ خواجہ سعد رفیق‘ علیم خان‘ شہباز شریف اور اسحاق ڈار بھی اگرچہ زیر عتاب ہیں لیکن ان کی سیاسی اہمیت نواز شریف‘ آصف علی زرداری اور مریم نواز جیسی نہیں‘ ان سب کا اپنا سیاسی وزن ہے مگر یہ کسی جوڑ توڑ کے کھلاڑی نہیں‘ لہٰذا ان کا کیس سیاسی قیادت کے ساتھ جوڑا نہیں جاسکتا‘ یوں سمجھ لیں کہ گرفتاریاں اصل میں جوڑ توڑ کے لیے ہیں‘ آصف علی زرداری کی قربت کے دعویدار بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی سیاسی اننگز ختم ہوچکی ہے یہی معاملہ نواز شریف کے ساتھ بھی ہے لیکن جب مریم نواز اور بلاول زرداری کی سیاسی اننگز کی بات ہوگی تو یہ ضرور سمجھا جاتا ہے کہ بڑے خود تو ٹک ٹک کر رہے ہیں لیکن مریم نواز اور بلاول کو کھیلنے کا موقع دے رکھا ہے‘ تاہم کوچ کا خیال ہے کہ بڑے آئوٹ ہوجائیں اور چھوٹوں کو ہنر مندی دکھاتے ہوئے اپنی مکمل آزادی کے ساتھ کھیلنے دیا جائے یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک عبوری دور ہے جس سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی گزر رہی ہیں یہ دور کتنا طویل ہوگا یا ہوسکتا ہے اس کا جواب خود ان دونوں جماعتوں کی قیادت کے رویے ہی سے جڑا ہوا ہے‘ ملکی سیاست کے یہ ’’بڑے‘‘ جب خود سیاسی میدان میں اترے تھے تو اس وقت ولی خان‘ بھٹو‘ مولانا مفتی محمود‘ نواب زادہ نصراللہ خان‘ سردار عطاء اللہ مینگل‘ مصطفی جتوئی جیسے بڑے نام سیاست میں تھے اور پنجاب میں نواز شریف نے ان کی جگہ لی تھی اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو نے بیگم نصرت بھٹو کو ہٹا کر اپنی جگہ بنائی‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی کا دورانیہ پچیس سال سے زائد عرصہ تک رہا‘ نواز شریف ابھی بھی سیاست میں پوری طرح ’’ان‘‘ ہیں انہیں سیاست میں آئے ہوئے اڑتیس برس ہوچکے ہیں اب تقاضا کیا جارہا ہے کہ انہیں اپنی جگہ خالی کردینی چاہیے لیکن مزاحمت ہورہی ہے‘ جسے وہ جائز بھی سمجھتے ہیں‘ رہ گئی مقدمات کی، قانون کی نظر میں اور عدالت کے روبرو کوئی بھی مقدمہ سیاسی نہیں ہوتا لہٰذا مقدمے کو مقدمہ ہی سمجھنا چاہیے اور عدالت میں معاملہ پہنچ جائے تو پھر قانون کے مطابق دلائل کے ساتھ عدالت کو مطمئن کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ کوئی عدالت یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے روبرو کھڑا شخص سیاسی لحاظ سے کتنا مقبول ہے اگر ایسا ہوتا تو بھٹو صاحب کبھی اس نجام دے دوچار نہ ہوتے۔
آصف علی زرداری کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس گرفتاری کا کریڈٹ مسلم لیگ(ن) لے گی کہ اس دور میں یہ مقدمہ بنایا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ان کا اشارہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب تھا تحریک انصاف اسی لیے تو کہتی ہے کہ ہم نے کسی کے خلاف مقدمات نہیں بنائے صرف اتنا کیا کہ مصلحتوں کا شکار ہوکر انہیں نظر انداز نہیں کیا آصف علی زرداری کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی کا وہ ردعمل نہیں آیا جو مسلم لیگ(ن) نواز شریف کی گرفتاری پر دے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے بہت ہی قریبی حلقے یہ سمجھ رہے ہیں کہ بلاول کو آگے آنا چاہیے اور سندھ میں اپنی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں جانا چاہیے‘ یہی مطالبہ مریم نواز کے لیے بھی ہے وہ سیاسی ہنر مندی دکھائیں‘ سیاست کا پہلا زینہ ملکی قومی سلامتی کے تقاضوں کو سمجھنا ہے اسے نظر انداز کرکے سیاست میں آگے بڑھنا ہے تو بہتر یہی ہے کہ سیاست میں آنے کی سوچ ترک کردی جائے سیاست میں دوسرا ہنر دیانت داری ہے‘ اہلیت ہے‘ صلاحیت ہے‘ قیادت کے اصول ہیں‘ اقوام عالم کے سیاسی اسرار و رموز سمجھنا ہیں ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف نے یہ ہنر وقت کے ساتھ سیکھا تھا لیکن ان سے کہاں غلطی ہوئی اس بات کاجائزہ لینا بھی ان کی ذمے داری تھی بہتر یہی ہے کہ ان کی نئی نسل غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھے اور غیر متنازع لیڈر بنیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی غلطیوں سے سیکھے بغیر جے یو آئی کی کل جماعتی کانفرنس کا حصہ بن کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘ جے یو آئی تو چاہے گی کہ دونوں بڑوں کی عدم موجودگی میں ان کی نئی نسل کی سیاسی پچ پر کھیلے اور مزاحمت کے سیاسی کھیل کی قیادت کرے لیکن فیصلہ کرنا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ذمے داری ہے کہ ان کو کیا کرنا ہے؟ یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ مریم نواز اور بلاول زرداری گرفتار ہوجاتے ہیں تو پھر کیا کرنا ہوگا‘ کیسے کرنا ہے اور کون کرے گا؟
بلاول گرفتار ہوجاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کے پاس تو آصفہ ہیں‘ مسلم لیگ (ن) کے پاس کیا ہے؟ مریم نواز کے بعد تو مسلم لیگ(ن) میں کچھ بھی نہیں ہے سنا ہے کہ تحریک انصاف نے بھی احتجاجی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے ہوسکتا ہے عمران خان مسلم لیگ نون کے بجائے پی پی پی کے ساتھ مفاہمت کرنے پر آمادہ ہو جائیں کیوںکہ وہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کو سیاسی بالادست ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ نواز شریف کی یہ خواہش ضرور ہوگی کہ مریم نواز مسلم لیگ نون کی قیادت سنبھال لیں یہ صرف اس صورت ہی میں ممکن ہو سکے گا کہ جب حالات موافق ہوں تلخ حقیقت ہے کہ ’’کرپشن کہانیاں‘‘ آصف علی زرداری کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کوشش کرنے پر آمادہ نہیں کر رہی ہیں مگر یہ معاملہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ نہیں اس کی قیادت اس معاملے پر بہت حساس ہے شریف خاندان کرپشن کیسوں کو سیاسی انتقام قرار دے رہا ہے۔
متحدہ الطاف حسین کو بھی لندن میں جان بوجھ کر جرائم، تشدد پر اکسانے اور معاونت کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ایک بہت ہی پرانا واقعہ ہے نشتر پارک میں مہاجر قومی مومنٹ کا جلسہ ہورہا تھا ایک طیارے کا گزر ہوا جسے دیکھ کر الطاف حسین نے سوال کیاکہ جانتے ہو یہ طیارہ کس کا ہے؟ اہل جلسہ نے جواب دیا کہ پی آئی اے کا، جس پر اس نے کہا کہ ہے تو یہ پی آئی اے کا لیکن یہ پی پاکستان کا نہیں پنجاب کا ہے یہی جلسہ تھا جس میں الطاف حسین نے ٹیلی ویژن اور وی سی آر بیچ کر اسلحہ خریدنے کا مشورہ دیا تھا کراچی کے بعد ان کی اگلی منزل حیدر آباد تھی حیدر آباد جانے سے قبل سہراب گوٹھ پر ایک سانحہ ہوا یا کرایا گیا۔ اردو اور پشتو بولنے والوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوئیں یہیں سے الطاف حسین کی گرفتاری ہوئی تھی یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ انہوں پولیس کو بیان دیا کہ وہ ایم کیو ایم کے رکن نہیں ہیں۔ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بعد قومی سیاست میں آنے تک کا سفر کتنی انسانی جانیں کھا گیا؟ اس کا بھی حساب کتاب ہونا چاہیے کیونکہ مقدمہ جرائم پر ابھارنے کا ہے۔