خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں پر نیا حملہ (خطے میں کشیدگی)

75

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) خلیج عمان میں 2 تیل بردار جہازوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنا دیا گیا، جس کے بعد خطے میں پہلے سے پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز خلیج بنگال میں نشانہ بنائے گئے جہازوں کی شناخت کوکوکا کریجیئس اور فرنٹ آلٹیئر کے نام سے کی گئی ہے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ خطے میں جہاز رانی کے نگران محکمے کے مطابق واقعے کے فوراً بعد دونوں جہازوں سے عملے کو نکال لیا گیا۔ ناروے کے سمندری نگرانی کے ادارے نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق فرنٹ آلٹیئر نامی آئل ٹینکر پر 3 دھماکوں کی اطلاع ہے۔ تاہم کسی کے بھی زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں، جب کہ آخری اطلاعات آنے تک جہاز پر لگی آگ بجھانے کا عمل جاری تھا۔ یہ بحری جہاز مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور یہ ناروے کی فرنٹ لائن نامی جہاز ران کمپنی کے بیڑے میں شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرنٹ آلٹیئر پر متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ سے تیل بھرا گیا تھا۔ فرنٹ لائن کے ترجمان نے بتایا کہ عملے کے 23ارکان خیریت سے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جہاز پر ناروے کا کوئی بھی شہری موجود نہیں تھا۔ عملے کے زیادہ تر افراد کا تعلق روس،جارجیا اور فلپائن سے ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والا دوسرا جہاز ایک جاپانی کمپنی کا تھا اور اس پر میتھنول لدا ہوا تھا۔ اس جہاز پر عملے کے 21 ارکان تھے اور یہ سب فلپائنی شہری ہیں۔ یہ جہاز بیرہانرڈ شلٹے نامی شپنگ کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کمپنی نے بتایا کہ اس واقعے میں جہاز کی دائیں حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ جہاز سعودی عرب سے روانہ ہوا تھا۔ امدادی کارروائی ایرانی حکام نے انجام دی۔ دوسری جانب اسی طرح ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ان حملوں کو انتہائی مشکوک قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ جاپان سے تعلق رکھنے والے آئل ٹینکر پر حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں، جب جاپانی وزیر اعظم تہران میں ہیں اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ تفصیلی اور دوستانہ بات چیت کر رہے ہیں۔ جب کہ یورپی یونین نے خلیج عمان میں ان تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد مزید کشیدگی سے گریز اور زیادہ ضبط وتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کی خاتون ترجمان ماجا کوچی جانچیک نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ خطے کو عدم استحکام اور کشیدگی کے لیے مزید عناصر کی ضرورت نہیں۔ اس لیے موگرینی اور ہمارا مطالبہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل سے کام لیا جائے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے۔ جب کہ ٹینکر ایسوسی ایشن انٹر ٹینکو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ان حملے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں اور ان کے عملہ کے تحفظ سے متعلق تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس مشتبہ تخریبی حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسی علاقے میں الفجیرہ کے قریب 4 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں 2 سعودی آئل ٹینکر بھی شامل تھے۔