مصر میں 25افراد کو عمر قید‘ 264کو مختلف سزائیں

44

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر کی ایک فوجداری عدالت نے 25 افراد کو عمر قید بامشقت، جب کہ مختلف مقدمات میں 264 افراد کو 3سے 15برس تک قید کی سزائیں سنادیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق مجرموں میں 2014ء میں فوجی صدر عبدالفتاح سیسی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے مختلف مقدمات میں 264افراد کو 3سے 15برس تک قید کی سزائیں سنائیں۔ سرکاری اخبار الاحرام کے مطابق قاہرہ کی عسکری عدالت کا فیصلہ مصری قوانین کی رو سے حتمی نہیں ہوگا اور ملزمان کو اپنے وکلا کے ذریعے 60 روز کے اندر فیصلے پر اعتراض کرنے کی اجازت ہوگی۔ واضح رہے کہ مصر میں عمر قید کی مدت25برس ہے۔ 2014ء میں صدر سیسی حج کی غرض سے سابق سعودی ولی عہد محمد بن نایف کے مہمان بنے تھے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اس دوران ان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جسے ناکام بنادیا گیا۔ دوسری جانب مصری صدارتی دفتر نے اس خبر کو رد کردیا تھا۔ تمام ملزمان پر فوجی عدالت نے 2016ء میں فرد جرم عائد کی تھی۔ سزا پانے والے دیگر افراد پر سیاحوں اور فوجی اہل کاروں پر حملوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بعض افراد کو 2015ء میں العریش میں 3ججوں کے قتل کے الزام میں سزا ئیں سنائی گئی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزمان نے 22دہشت گرد سیل تشکیل دے رکھے ہیں، تاہم ان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ 2013ء میں سابق صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سیسی حکومت نے شمالی سینا میں فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے ، جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں پولیس اہل کار اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ گزشتہ برس مصر حکام نے شمالی سینا میں داعش کی موجودگی کا بہانہ بنانا کر آپریشن کا دائرہ وسیع کردیا تھا۔