ٹرمپ نے انتخابات میں بیرونی مدد کی کھلی حمایت کردی

51

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آیندہ سال صدارتی انتخابات میں مخالف امیدواروں سے متعلق بیرونی ممالک سے معلومات لے سکتے ہیں اور اگر انہیں حساس نوعیت کی معلومات مل گئیں تو وہ ایف بی آئی سے رابطہ کریں گے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت سے انکار کرتے آئے ہیں تاہم اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک سے معلومات کے حصول میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ چین یا روس کی جانب سے معلومات کی فراہمی کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کو دوسروں کی بات سننی چاہیے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، تاہم صدر نے واضح کیا کہ اسے بے جا مداخلت نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی ٹی وی اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہیں لگا کہ کچھ غلط ہے تو وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے رابطہ کریں گے۔ دریں اثنا ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست نہیں بلکہ ہماری قومی سلامتی کو خطرے کے مترادف ہے۔ ایک اور متوقع صدارتی امیدوار ایلزبتھ وارن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے ہمارے موقف کو تقویت ملی ہے کہ ان کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کے بیٹے ٹرمپ جونیئر بدھ کے روز بند کمرے کی سماعت کے لیے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے، جس کے بعد انہوں نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ ان کے جوابات وہی ہیں جو انہوں نے کمیٹی کے سامنے 2017ء کی سماعت کے دوران دیے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ آخر کار یہ مرحلہ ختم ہوااور ہم اس قابل ہوئے کہ معاملے کی حتمی وضاحت پیش کی جائے۔ ری پبلکن سینیٹر رچرڈ بر سینیٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں، جو دونوں سیاسی جماعتوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں، جس میں امریکی سیاست میں مبینہ روسی مداخلت کی چھان بین جاری ہے۔