امریکا ایران کشیدگی پر جاپانی وزیر اعظم کی خامنہ ای سے ملاقات

28

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ طے عالمی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے جاپانی وزیر اعظم نے دورۂ تہران کے دوسرے روز ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے سمیت عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جاپانی وزیر اعظم شنزوآبے کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھے گا اور فریقین کو کسی نئے تنازع سے ہر ممکن حد تک بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے امریکی صدر سے متعلق بات کرت ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھیجا گیا پیغام جواب کے قابل نہیں، لہٰذا انہیں مستقبل میں بھی کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ انقلاب کے بعد کسی بھی جاپانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ ایران ہے۔ شنزوآبے نے بدھ کے روز تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی تھی جس میں خطے میں موجود کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ملاقات کے بعد شنزو آبے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تصادم ے بچنے کے لیے ایران کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا نے اگر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی خطے میں اقتصادی جنگ ختم ہوگی، اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ جاپان ایران تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر روحانی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ تہران اور ٹوکیو جوہری ہتھیاروں کے مخالف ہیں۔ علاوہ ازیں ایک ایرانی اخبار نے صفحہ اول پر ایٹمی دھماکے کے بعد پھیلے ہوئے دھویں کی تصویر شائع کی ہے۔، جس میں امریکا کے دوسری عالمی جنگ کے دوران میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے جانے کا حوالہ ہے۔ روزنامے نے نے انگریزی اور فارسی زبان میں شہ سرخی شائع کی کی کہ ’’ جناب آبے! آپ ایک جنگی مجرم پر کیسے اعتبار کر سکتے ہیں؟۔