اصل مسئلہ کشمیر ہے،بھارت سے کشیدگی ختم کرنے کیلئے روس کی ثالثی قبول کریں گے،عمران خان

111
بشکک :وزیراعظم عمران خان کرغیزستان کے وزیراعظم کے ہمراہ ائرپورٹ سے باہر آرہے ہیں‘ چھوٹی تصویر میںکرغیزستان کے صدر سے ملاقات کررہے ہیں
بشکک :وزیراعظم عمران خان کرغیزستان کے وزیراعظم کے ہمراہ ائرپورٹ سے باہر آرہے ہیں‘ چھوٹی تصویر میںکرغیزستان کے صدر سے ملاقات کررہے ہیں

بشکک(صباح نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ کشمیر ہے ‘ کشیدگی ختم کرنے کے لیے روس کی ثالثی قبول کریں گے۔ روس کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان اور روس کی افواج کے مابین مشترکہ جنگی مشقوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوںنے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں بہتری آئی ہے اور ان میں مزید بہتری کی امید ہے۔ 50، 60اور 70کی دہائی کا عرصہ سرد جنگ کی نذر ہوا ، اس عرصے میں بھارت سوویت یونین کے قریب تھا اور پاکستان امریکی کیمپ میں تھا لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے، اب پاکستان اور بھارت دونوں کے ہی امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اب سرد جنگ جیسی صورتحال نہیں ہے، ہم نے روس کے ساتھ اپنے رابطوں میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔روسی ہتھیاروں بالخصوص ایس 400میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا سب سے پہلے تو ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ہمارے بھارت کے ساتھ تنا ئومیں کمی آئے تاکہ ہمیں ہتھیار خریدنے کی ضرورت ہی نہ پڑے کیونکہ ہم یہی پیسہ انسانی ترقی پر خرچ کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم روس سے ہتھیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں ، ہماری فوج پہلے سے ہی روسی فوج سے رابطے میں ہے۔علاوہ ازیں عمران خان کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کرغزستان کے صدر کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں روسی صدر پیوٹن سے غیررسمی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ذرائع کے مطابق عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ساتھ ڈنر ہال میں داخل ہوئے لیکن عمران خان اور نریندرمودی نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے آپس میں مصافحہ نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے دوسرے ملکوں کے سربراہان سے مصافحہ کیا، عمران خان ہال کے ایک کونے اور نریندر مودی دوسرے کونے میں موجود رہے۔