سندھ اسمبلی ،وفاقی بجٹ کیخلاف سید عبدالرشید کی قرار داد اور پولیس ایکٹ 2002 متفقہ طور منظور

83

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے جمعرات کوسندھ پولیس ایکٹ 1861 کے خاتمے اور پولیس آرڈر 2002 کی بحالی کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، جبکہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی سید عبدالرشید کی وفاقی بجٹ میں شیائے خورونوش اور بنیادی استعمال کی اشیا پر عاید کیے گئے ٹیکس کیخلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی۔سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اپنی کارروائی کے دوران ایم ایم اے کے رکن عبدالرشید کی وفاقی بجٹ سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی جو وفاقی بجٹ میں اشیائے خورو نوش اور بنیادی استعمال کی اشیاء پر عائد کئے گئے ٹیکس کی مذمت سے متعلق تھی۔قراداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ کیونکہ اس اضافے سے عوام کی مشکلات میں مزید بڑھ گئی ہیں۔قرار دامیںبنیادی اشیائپر عائد ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔ عبدالرشیدکا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب پچھلے دس برس کے قرضوں کا ذکر کرتے ہیں مگر اپنے 10ماہ کے دوران پانچ ہزار ارب کے قرضوں کو بھول جاتے ہیں۔بل کی منظوری کے لیے ایوان میں جاری کارروائی میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد جی ڈی اے نے بھرپور حصہ لیا جبکہ اپوزیشن کے دو بڑے پارلیمانی گروپوںایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا اصرار تھا کہ بل کو منظوری سے قبل مزید غور کے لیے ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے ان کی یہ بات نہیں مانی گئی جس پر وہ احتجاجاً ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے تاہم اپوزیشن کے دو چھوٹے پارلیمانی گروپوں تحریک لبیک پاکستان اور ایم ایم اے کے ارکان ایوان میں موجود رہے اور انہوں نے رائے شماری میں بھی حصہ لیا۔ترمیمی پولیس بل میں جی ڈی اے اراکین کی کچھ ترامیم شامل کرلی گئیں اور کچھ کووزیر اعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد واپس لے لیا گیا۔وزیراعلی سندھ نے جی ڈی اے ، ٹی ایل پی اور ایم ایم اے کے ارکان کے پارلیمانی تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا قبل ازیں ایوان میں پیش کردہ نئے ترمیمی پولیس ایکٹ کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پولیس کی خودمختاری میں دخل نہیں دیناچاہتی مگر اس کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ،پولیس کی آزادی کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا ،آزاد ذمہ دار اور قابل احتساب پولیس بہت ضروری ہے ،پبلک سیفٹی کمیشن کوبااختیاربنایاگیاہے جس میں ایسے لوگ شامل ہوںگے جن پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو،سندھ حکومت اعلیٰ عدلیہ کے احکامات وفیصلوں پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل کرے گی ۔۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گورنر نے اپنے آرڈر میں تین باتوں کی نشاندہی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ آئی جی سول سوسائٹی اور اپوزیشن کو پولیس آرڈربحالی پراعتراض ہے ۔سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ میں اس ایوان میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ آئی جی پولیس کا قانو ن سازی میں کوئی کردار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں امل کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحب نے امل کیس میں پولیس کے کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اس لیے پولیس پرنگرانی بہت ضروری ہے ۔ حکومت سندھ نے سول سوسائٹی کی مشاورت سے پولیس آرڈر بحالی بل میں ترامیم کی ہیں،اس ضمن میںاپوزیشن سے بھی مشاورت کی گئی ہے ۔