سندھ میں جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار ایکڑ اراضی پر با اثر افراد کے قبضے کا انکشاف

88

اسلام آباد( آن لائن )سندھ کے جنگلات کی ایک لاکھ 80 ہزار 134ایکڑ زمین پر با اثر افراد کے قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔سندھ میں زمینوں پر قبضے کی مفصل رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف فاریسٹ کنزرویٹو آفیسر کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کی 8لاکھ 86ہزار 840ایکڑ زمین اور 6 فاریسٹ سرکل کی 7لاکھ 6ہزار 703ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کے پاس ہے۔رپورٹ کے مطابق خیر پور فاریسٹ سرکل میں 1لاکھ 55ہزار 890ایکڑ جنگلات کی زمین ہے، جس میں سے 35ہزار 761ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔ لاڑکانہ سرکل میں 80ہزار 573ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین ہے، جس میں سے 17ہزار 181 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔ سکھر فاریسٹ سرکل میں 1 لاکھ 52ہزار 258 ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین میں سے 51ہزار 925 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔ٹھٹھہ سرکل میں 1لاکھ91ہزار998ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین سے 23ہزار557 ایکڑ زمین قبضے میں ہے. بے نظیر آباد (نوابشاہ) میں 94ہزار361ایکڑ زمین محکمہ جنگلات کی ہے، جس میں سے 36ہزار312 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔ حیدر آباد کی 2لاکھ 11ہزار 759 ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کی ہے، جس میں سے 15 ہزار 397ایکڑ زمین پر قبضہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰکے 20مارچ کے حکم کے بعد 2 لاکھ 2ہزار368ایکڑ زمین قابضین سے واگزار کرائی گئی ہے۔ چیف کنزرویٹو آفیسر نے رپورٹ میں سندھ حکومت کی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا۔20فروری کو عدالت نے چیف کنزرویٹو آفیسر کو سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا ۔رپورٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے عدالتی حکم عدولی کر کے فنڈز اور سہولتیں فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ زمینوں کے بورڈ آف ریونیو سے مل کر جعلی الاٹمنٹ کے کاغذات بنائے گئے،اس اراضی کو رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کرخالی کرایا جا سکتا ہے۔