قرض اورسود کی لعنت سے نجات کے بغیرمعیشت ترقی نہیں کرسکتی، حسین محنتی

41

کراچی(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ ساڑھے 7 ہزارارب کے بجٹ میں3 ہزار سود وقرضوں کی ادائیگی نے بجٹ کو تلپٹ کردیا ہے،سود سے نجات کے بغیرمعیشت ترقی نہیں کرسکتی،اس طرح ہم 5 سال تو کیا10 سال کے بعد بھی معاشی بحران سے نہیں نکل سکتے۔وفاقی بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے صوبائی امیر نے مزید کہا کہ3 ہزار ارب روپے قرضوں وسود کی ادائیگی کی مد میں رکھنے کے بعدہمارے پاس 4سوارب روپے بچتے ہیں جس پر پورے ملک اورچاروں صوبوں کو چلانا مشکل کام ہے۔اس بجٹ میں آمدن کے اہداف کو30 فیصد بڑھایا گیا ہے جبکہ اس ہدف کو
پوراکرنا انتہائی مشکل کام ہے۔پاکستان اس وقت ڈالربحران میں مبتلا ہے اور حکومت نے ٹیکسٹائل سمیت 5 بڑی برآمدی صنعتوں میں زیروٹیکسیشن ختم کرکے ان پر مختلف ٹیکس لگائے ہیں جوکہ ایکسپورٹ کرنے کے بعدریفنڈکی صورت میںحاصل کیے جا سکتے ہیں۔حالانکہ گزشتہ سالوں کے4سوارب ابھی تک ریفنڈ نہیں کیے گئے۔ اس بات کا خوف ہے کہ برآمدی صنعتیں اس اقدام سے بری طرح متاثر ہوں گی اورکرپشن بڑھنے کے ساتھ برآمد بھی کم ہونے کے اندیشے موجود ہیں۔انہوں نے کہ مرغی ،مٹن، مچھلی بیف پر17 فیصد ٹیکس قابل تشویش ہے یہ بات واضح رہے کہ کھانے پینے کی اشیا پرماضی میں کسی حکومت نے کسی بجٹ میں بھی ٹیکس نہیں لگایا۔چینی ،تیل، خشک دودھ سمیت دیگرکچن ایٹم مہنگے حتیٰ کہ پیٹرول کے بعد سی این جی کی قیمت میں یکمشت 10 روپے کا اضافہ کردینے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اضافہ ہوگا جس کا خمیازہ بالآخرغریب عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔سیمنٹ ودیگر تعمیراتی سامان پر ٹیکس سے تعمیراتی صنعت متاثر ہوگی، صحت وتعلیم کے بجٹ میں مایوس کیا گیا ہے یہ دونوں شعبے پہلے ہی متاثر ہیں،بجلی کا بحران تاحال موجود ہے مگر آبی وتوانائی وسائل کو بڑھانے کے لیے صرف85ارب روپے رکھے گئے ہیں جوکہ ایک دہائی میں بھی مکمل ہوتے نظر نہیں آتے،اسی طرح کراچی میں پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لیے صرف 80کروڑ کا اعلان ناکافی ہے۔پرتعیش اشیا پرٹیکس بڑھا کر عام آدمی کو ریلیف دینا چاہیے۔دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنا جبکہ کابینہ کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی قابل تحسین اقدام ہے۔
حسین محنتی