بجٹ میں شعبہ تعلیم کو مزید تباہ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے،اسد علی قریشی

37

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ سندھ کے ناظم اسدعلی قریشی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال کے بجٹ میں جہاں ہرشعبہ میں عوام کا جینا محال کرنے کاانتطام کیا ہے ،وہیںشعبہ تعلیم جو ہمیشہ سے ہی حکمرانوں کی نظرکرم کا طلب گاررہا ہے،اسے مزید تباہ کرنے کا انتظام کیا ہے۔طلبہ کو حالیہ تعلیم دشمن بجٹ کسی صورت منظور نہیں،حالیہ بجٹ میں جامعات کے اندر اسکالرشب پروگرام ختم
کرنے،اور تعلیم کے شعبہ کے لیے مختص فنڈ میں کمی کی بھرپورمذمت کرتے ہیں۔حکومت کے آئی ایم ایف کی چھتری تلے پیش کردہ بجٹ نے تحریک انصاف کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ وزیراعظم کے اقتدار ملنے سے پہلے نوجوانوں سے کیے گئے وعدے دھوکا اور فریب ثابت ہوئے۔نئے بجٹ سے جہاں عوام مایوس ہوئے وہیں طلبہ اور نوجوان بھی شدید بے چینی اورپریشانی کا شکار ہیں۔اسدعلی قریشی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ بجٹ میں وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے55ارب روپے مختص کیے تھے لیکن موجودہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 43ارب روپے رکھے گئے ہیں۔جبکہ جامعات میں اسکالرشب پروگرام بھی ختم کیا گیا ہے۔اسدعلی قریشی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ہر تقریر میں اداروں کو مضبوط اور منظم کرنے کے کھوکھلے دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن طرزعمل ان کے دعووں سے یکسر مختلف ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ