ریاستی اداروں کو سیاست کے بجائے ملک کی سرحدوں پر نظر رکھنی چاہیے، فضل الرحمٰن

42

 

کراچی(نمائندہ جسارت)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل اکرحمن نے کہا ہے کہ یہ وقت عوام پر کرب کا وقت ہے ۔سیاسی قوت اگر آج عوام کے ساتھ کھڑی نہیں ہوں تو پھر کب ؟ہم ریاستی اداروں کے خلاف نہیں لیکن ریاستی اداروں کو بھی سیاست کے بجائے ملکی سرحدوں پر نظر رکھنی چاہیے ۔ ملک بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی اور جمہوری قوتیں متحد اور منظم ہیں ۔ جون کے آخری عشرہ اہم آل پارٹی کانفرنس ہوگی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس وقت ملک جس غیر یقینی کیفیت، معاشی بحران کا شکار
ہے اس سے جغرافیائی تبدیلیاں آجاتی ہیں ۔ہم پاکستان میں ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ نیب اور کسی ادارے میں اتنی جرت نہیں کہ وہ ہمیں بلائے ،میں نیب یا ان اداروں سے ڈرتا نہیں ، اگر میرے خلاف کوئی ریفرنس تیار کیا گیا تو ان کے سامنے اس ریفرنس کی دھجیاںبکھیردوں گا۔ان لوگوں نے صاف ستھری سیاست کو بھی اب جرم بنا دیا ہے ۔مختلف رہنماو ن کی گرفتاریاں مالی معاملہ نہیں سیاسی گرفتاریاں ہیں۔نواز شریف اور آصف علی زرداری تقریباََ ایک پیج پر ہیں۔عمران خان نے گزشتہ تقریر صحابہ کرام کے حوالے جو کچھ کہا وہ جہالت ہے اور مغربی لٹریچر کے ذریعے ہمیں اسلامی تاریخ بتا رہے ہیں۔صحابہ ہی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ان کے لیے غیر ذمہ داران جملوں کا استعمال افسوس ناک اور قابل مذمت ہے َ ان خیالات کا ااظہار انہوں نے بدھ کو جمعیت علمائپاکستان کے مرکزی سیکر ٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی کی رہائش بیت الرضوان میں عید ملن پارٹی کے موقع پر مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماو ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، مسلم لیگ ( ن ) سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ،عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے افضل سردار،جمعیت علمااسلام کے مولانا عبد الغفور حیدری ،قاری محمد عثمان،جمعیت علمائپاکستان کے مستقیم نورانی اور دیگر بھی موجود تھے ۔قبل ازیں ان رہنماو ں کی ملاقات میں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال اور صدر انیس قائم خانی نے بھی ملاقات کی تھی۔اس موقع پر شاہ اویس نورانی نے مہمانوں سے اظہار تشکر کیا۔مولا نا فضل الرحمن نے کہاکہ عید کا موقع پوری امت کے لیے خوشیوں کا تہوار ہے لیکن ہمارا جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں ہماری خوشیاں ادھوری رہ جاتی ہیں کیونکہ ہمارا ملک ہر طرف سے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ 25 جولائی کے الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد میںانتخابات میں بدترین دھاندلی ، الیکشن کمیشن کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے اورتحقیقاتی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا۔ یہی قومی بیانیہ ہے لیکن جب سیاسی جماعتیں اس قومی بیانیے کو مستحکم نہ کر سکیں تو اس سے ملک اور عوام کو نقصان ہوا ۔ہر جماعت کا اپنا موقف تھا لیکن ہم نے اپنا مشن جاری رکھااور 13 کامیاب ملین مارچ کیے ۔مگر میڈیا نے کوریج نہیں دی لیکن یہ فیصلہ میڈیا کا اپنا نہیں کسی کی قدغن ہے جب اس طرح کی قدغن ہوگی تو یہ جمہوریت نہیں آمریت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم اب 12 بجے قوم سے خطاب کرتا ہے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟یہ تو ایسا وزیر اعظم ہے اس کی اپنی تقریر بھی سنسر ہوگی یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان خاموش لمحوں میں کیا کہا ہے ۔ مولانا فضل الر احمن نے کہاکہ صحابہ کرام ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن جاہل اعظم نے مال غنیمت کو لوٹ مار سے تعبیر کیا۔ ہمارے پاس صحابہ کرام کا اسوۃ حسنہ ہی نجات ہے ۔ انہوں نے کہاکہ غزوہ بدر میں کچھ صحابہ رہ گئے تھے انہوںنے غزوہ احد میں اپنے آپ کو میدان جنگ میں وقف کیااور کئی صحابہ کرام شہید ہوئے ۔ان کے اس جذبہ کو ڈر کہا گیا جبکہ تمہیں دین اور مذہب کا علم ہی نہیں تو پھر بولتے کیوں ہو؟کیا مغرب کے لٹریچر سے ہمیں اسلامی تاریخ بتا رہے ہو۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ آج ان حکمرانوں سے نجات کے لیے قوم ایک پیج پر ہے ۔ سیاستدانوں کو آگے آنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کے عین وقت پر سیاست دانوں کی گرفتاریوں کا کیا مطلب ہے؟ ۔ چیئرمین نیب کو بلیک میل تو نہیں کیا جارہا ہے ۔
فضل الرحمن