سندھ اسمبلی میں زرداری کی گرفتاری پر قرارداد مذمت منظور، اپوزیشن کا ہنگامہ

30

 

؎کراچی(نماندہ جسارت)سندھ اسمبلی نے بدھ کوایوان میں اپوزیشن کے شدید شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران سابق صدر آصف زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، پیپلز پارٹی کے ارکان کا کہناتھا کہ عوام دشمن بجٹ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے زرداری کو گرفتار کیا گیا،نیب ان قوتوں کے اشارے پر سیاسی لوگوں کو نشانہ بنارہا ہے جو حق کی آواز دبانا چاہتی ہیں،ہم جیلیں برداشت کرنے کے عادی
ہیں، پی ٹی آئی والوں میں تو گرمی برداشت کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ایوان کی کارروائی کے دوران قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے حکومتی ارکان کی ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اجلاس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تو اسپیکر آغا سراج درانی نے رولنگ دی کہ اجلاس قانونی ہے، اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔قائد حزب اختلاف نے جذباتی انداز میں مخالفانہ تقریر شروع کی تو اسپیکر نے ان کا مائیک بند کرکے وقفہ سوالات کا اعلان کردیا،جس پر اپوزیشن ارکان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے ایوان میں پلے کارڈ لہراکر زبردست نعرے بازی شروع کردی اور اسپیکر کی نشست کا گھیرائو کرلیا، اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی سے ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔شور شرابے کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن جام مدد علی نے آصف زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف قرارداد مذمت پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان وقفے وقفے سے بڑے پرجوش اندازمیں سیاسی نعروں کا مقابلہ بھی ہوتا رہا۔پی ٹی آئی ارکان اپنے ساتھ کارڈ لیس مائیک اور بہت سے پلے کارڈ بھی لیکر آئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے،ان کی جانب سے جب گلی گلی شور ہے کا نعرہ بلند کیا جاتا تو حکومتی بینچوں کی جانب سے فوراً جوابی نعرہ لگادیا جاتا کہ علیمہ باجی چور ہے۔قبل ازیں قائد حز ب اختلاف نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان کی درخواست پر طلب کردہ اجلاس غیر آئینی طریقے سے طلب کیا گیاجو غیر قانونی ہے کیونکہ ریکوزیشن کی درخواست کے پہلے صفحہ پر صرف 4 ارکان کے دستخط ہیں، باقی 50ارکان کے دستخط بعد میں کرائے گئے ،اس طریقے سے اجلاس بلانے پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اوپر سے جس طرح فراڈ کے طریقے سکھائے جاتے ہیں وہ یہاں بھی لاگو کرتے ہیں۔ ریکوزیشن کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور ایوان میں اس پر بات کرنی ہے۔حکومتی ارکان کو معلوم ہے کہ سندھ اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر 50 لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ ارکان کے دستخط پر شکوک وشبہات ہیں، سیکرٹری سے دستخط کی کاپی مانگی تو جواب ملا نہیں ہے،دستخط کی تصدیق کرنا چاہی تو کہا کہ اجازت نہیں۔اسپیکر نے کہا کہ اجلاس درست اورقانونی ہے اور اس حوالے سے رولنگ دے رہا ہوں،اس کے ساتھ ہی انہوں نے قائد حزب اختلاف کا مائیک بند کرکے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
سندھ اسمبلی