امریکا: صدارتی مشیروں کیخلاف کارروائی کی قرارداد منظور

27

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایوانِ نمایندگان نے حکومتی اہل کاروں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُن مشیروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جو طلب کرنے کے باوجود ایوان کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونے سے انکاری ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز منظور کی جانے والی قرارداد کے تحت ایوانِ نمایندگان کی قائمہ کمیٹیوں کو اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی حکومت کے ایسے اہل کاروں کے خلاف وفاقی عدالتوں سے رجوع کر سکیں جو کمیٹیوں کے طلب کرنے کے باوجود پیش نہیں ہو رہے، جس میں عدالتوں سے درخواست کی جائے گی کہ وہ حکومت کے ایسے اہل کاروں کو متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے یا مطلوبہ شواہد پیش کرنے کا قانونی حکم جاری کریں۔ ایوانِ نمایندگان نے یہ قرارداد 191 کے مقابلے میں 229 ووٹوں سے منظور کی ہے۔ ایوان کے تمام ڈیموکریٹ ارکان نے قرارداد کے حق میں جب کہ تمام ری پبلکنز نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ایوان کی جوڈیشری کمیٹی کو بھی 2016ء کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات سے متعلق رابرٹ ملر کی رپورٹ کا مکمل متن طلب کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ ایوانِ نمایندگان کی جوڈیشری کمیٹی نے محکمہ انصاف کو رابرٹ ملر کی تحقیقات کے نتائج پر مبنی مکمل رپورٹ بغیر کانٹ چھانٹ کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا جس سے محکمہ انصاف نے معذرت کر لی تھی۔ کمیٹی نے تحقیقات سے متعلق تمام شواہد، متعلقہ دستاویزات اور کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کیے جانے والے تمام بیانات بھی طلب کر رکھے ہیں۔