میکسیکو میں صحافی قتل‘ بھارت میں برہنہ کرکے پولیس کا تشدد

34

میکسیکو سٹی ؍ نئی دہلی ؍ ماسکو ؍ کینبرا (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوب مشرقی میکسیکو میں خاتون صحافی نورما سارابیا کو قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولہ ٹاباسکو ہوئے اخبار کے ساتھ 15 برس تک بطور نامہ نگار منسلک رہیں اور اسی اخبار نے اُن کے قتل کی تصدیق بھی کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سارابیا میکسیکو میں رواں برس قتل ہونے والی چھٹی صحافی ہیں۔ 2000ء کے بعد سے اب تک 100 سے زائد صحافیوں کو میکسیکو میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب بھارتی پولیس نے ریل کے ڈبوں کے پٹڑی سے اترنے کی رپورٹ بنانے والے صحافی کو جائے وقوع مارنے کے بعد تھانے لے جا کر برہنہ کرکے وحشیانہ تشدد کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر شاملی میں مقامی صحافی امیت شاہ کو افسران کی موجودگی میں پولیس ٹیم نے زبردستی برہنہ کیا اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں آگرہ کی عدالت میں بار کونسل کی خاتون صدر درویش یادیو کو ان کے ساتھی وکیل منیش شرما نے گولیاں مار کر قتل کر کے خود کو گولی مار کر زخمی کرلیا۔ پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے۔ اُدھر روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولسیف نے بتایا ہے کہ منشیات کی تجارت کے الزام میں نظر بند صحافی ایوان گولو نوف کے خلاف دلائل کی عدم دستیابی کی بنا پر تفتیشی روک دی گئی ہے۔ جس کے بعد انہیں جلد رہا کردیا جائے گا۔ علاوہ ازیں آسٹریلیا کی اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آزادی صحافت کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ پولیس نے گزشتہ ہفتے کے دوران سڈنی شہر میں ایک میڈیا آرگنائزیشن ’آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن‘ کے دفتر پر چھاپا مارنے کے علاوہ دارالحکومت کینبرا میں نیوز کارپوریشن کی خاتون صحافی انیکا سمتھرسٹ کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ حکومت نے پولیس کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے اسے سیکورٹی قوانین کے مطابق قرار دیا ہے۔