جاپانی وزیراعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات‘ بحران پر گفتگو

47

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپانی وزیراعظم شنزوآبے نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ایران امریکا کشیدگی اور پابندیوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق شنزو آبے بدھ کے روز ایران کے 2 روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچے تھے۔تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد جاپانی وزیراعظم نے ایرانی صدارتی محل میں حسن روحانی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں روحانی کا کہنا تھا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے جاپان کی خواہش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی جوہری معاہدہ کی بقا کے خواہاں ہیں۔ روحانی کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایرانی تیل کی خریداری اور دیگر مالی مشکلات حل کرنے کے لیے جاپانی فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ جب کہ وزیراعظم شنزوآبے نے کہا کہ ہم خطے میں کوئی نئی جنگ نہیں چاہتے اور جاپان بحران حل کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور میں اسے روکنے کی کوشش جاری رکھوں گا۔ خیال رہے کہ شنزو آبے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے آج ملاقات کریں گے۔جاپانی وزیراعظم نے ٹوکیو سے روانہ ہوتے وقت کہا تھا کہ دونوں ممالک کے روایتی دوستانہ تعلقات کے تناظر میں وہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آبے نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی تھی۔ خیال رہے کہ گزشتہ 41 برسوں میں کسی جاپانی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورۂ ایران ہے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی تہران میں اپنے جاپانی ہم منصب کونو تارو سے ملاقات کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ظریف اور کونو نے خلیج بصرہ میں تناؤ کم کرنے اور جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کی ملاقاتوں کا جائزہ لیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ ایران کے ساتھ بحران کنٹرول میں ہے۔