تارکین وطن کو بچانے پر بڑا جرمانہ ہوگا (اٹلی کا غیرانسانی اعلان)

34

روم (انٹرنیشنل ڈیسک) اٹلی کی حکومت نے تارکین وطن کو سمندر میں بچانے اور انہیں بلا اجازت ملکی بندرگاہوں پر لانے والی غیر سرکاری امدادی تنظیموں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطالوی حکومت کے منگل کو منظور کردہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق ماتیو سالوینی کی قیادت میں ملکی وزارت داخلہ اب قانوناً ایسی غیر سرکاری امدادی تنظیموں سے 10 ہزار یورو سے لے کر 50 ہزار یورو جرمانے کی رقوم کا مطالبہ بھی کر سکے گی، جو کھلے سمندروں سے یورپ آنے کے خواہش مند غیر ملکی تارکین وطن کو بچا کر اطالوی بندرگاہوں تک لائیں گی۔اس کے علاوہ ایسی رضاکار امدادی تنظیمیں جو اطالوی بندرگاہوں پر اپنے جہازوں کے ساتھ بلا اجازت لنگر انداز ہوں گی، انہیں یہ خطرہ بھی ہو گا کہ روم حکومت ان کے جہازوں اور امدادی کشتیوں کو مستقل بنیادوں پر ضبط کر لے گی۔ اس حکم نامے کے مطابق یہ جرمانے کسی بھی متعلقہ جہاز یا کشتی کے کپتان، اس کو چلانے والی غیر سرکاری تنظیم یا اس جہاز کی مالک کمپنی کو ادا کرنا ہوں گے۔روم میں اس وقت بائیں بازو کی عوامیت پسند فائیو سٹار موومنٹ اور دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت لیگ پارٹی پر مشتمل ایک مخلوط حکومت قائم ہے۔ لیگ پارٹی کے سربراہ ماتیو سالوینی ہیں جو وزیر داخلہ بھی ہیں۔ یہ نیا مہاجرین مخالف سرکاری حکم نامہ زیادہ تر ماتیو سالوینی ہی کی سوچ کا نتیجہ ہے اور وہی اطالوی حکومت کی ان کوششوں کی قیادت بھی کر رہے ہیں کہ ملک میں تارکین وطن کی غیر قانونی آمد پر ہر حال میں قابو پایا جانا چاہیے۔روم حکومت کی طرف سے اس حکم نامے کے اجرا کا پروگرام تو کافی پہلے بنایا گیا تھا، لیکن اس میں اقوم متحدہ کے علاوہ خود اطالوی صدر کے دفتر کی طرف سے کی جانے والی شدید تنقید کی وجہ سے بھی کافی تاخیر ہو گئی تھی۔