بشارالاسد سے وابستہ 16 افراد اور اداروں پر امریکی پابندیاں

34

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) مریکا نے شام میں بشارالاسد حکومت سے منسلک 16 اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا، جن میں ایرانی تیل کی سپلائی میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں اور ان کے کارندے بھی شامل ہیں۔امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں بلیک لسٹ کیے گئے شامی تاجروں اور کاروباری کمپنیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ بلیک لسٹ ہونے والے کاروباری افراد میں سامرفوز اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔امریکی وزارت خزانہ کے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس امور کے معاون خصوصی سیگل مانڈلکر نے کہا کہ قاتل اسد حکومت کے معاون بعض تاجر اپنی انتظامیہ کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے شہریوں کی املاک پرقبضے اور ان پر سرمایہ کاری میں ملوث ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نے شامی حکومت سے منسلک ایسی 16 شخصیات اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا ہے، جو اس سے قبل یورپی یونین کی طرف سے بھی بلیک لسٹ کی جا چکی ہیں۔ان میں چینی، اناج اورپٹرولیم مصنوعات کی تجارت کے لیے قائم کردہ کمپنی کے مالکان فوز برادران حسین فوز اور عافر فوز بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت سے منسلک بلیک لسٹ کردہ کمپنیوں میں سے سینرجی ایس اے ایل اور بی ایس کومبانی کے صدر دفاتر لبنان میں ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں ایرانی تیل پرعائد کردہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کا خام تیل فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔اس کے علاوہ ٹیلی وژن چینل لنا اور دمشق میں قائم فورسیزنز ہوٹل کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ یہ دونوں شامی کاروباری شخصیت سامر فوز کی ملکیت بتائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب شام میں اسدی فوج کے آبادی پر فضائی حملوں میں مزید 8 شہری شہید ہو گئے۔ اسد انتظامیہ کے جنگی طیاروں نے ادلب کے جنوبی دیہات کفر عین، حاص اور تابش میں رات گئے شدید فضائی حملے کیے۔