کابل کی ہٹ دھرمی، پاکستان نے 50 کروڑ ڈالر کا فنڈ چھوڑدیا

57

اسلام آباد ( آن لائن) افغانستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان نے ورلڈبینک سے خیبر پاس اقتصادی راہداری (کے پیک) منصوبے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے فنڈ چھوڑ دیے۔ میڈیا ر پورٹ کے مطابق کے پیک پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سہ ملکی تجارتی راہداری معاہدے (پی اے ٹی ٹی ٹی اے) کا ہی حصہ ہے۔تاہم افغانستان کی جانب سے یہ شرط عاید کی گئی تھی کہ پی اے ٹی ٹی ٹی اے معاہدہ واہگہ کے ذریعے کابل اور نئی دہلی کے درمیان تجارت سے مشروط ہوگا۔ادھر سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقاتیں کروائی تھیں تاکہ3 ملکی تجارتی راہداری پر معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔علاوہ ازیں ملاقات کے دوران تینوں ممالک میں تجارتی راہداری کے لیے دیگر منصوبوں جیسے سڑکیں اور سرحدی سہولیات کے لیے چوکیوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس دوران ورلڈ بینک نے پی اے ٹی ٹی ٹی اے کے تحت کے پی ای سی کی تعمیر پر زور دیا اور 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے پائپ لائن منصوبے کے تحت اس کے نفاذ کو عمل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ افغانستان کے وزیر خارجہ نے علاقائی روابط کے مسئلے پر اجلاس کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی رابطہ ان کے ملک کے لیے جب تک اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان کے ٹرکوں کو واہگہ کے ذریعے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔تاہم اسی وجہ سے پی اے ٹی ٹی ٹی اے یا کے پی ای سی منصوبے پر واشنگٹن میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔