سنگین غداری کیس،پرویز مشرف کا حق دفاع ختم

52

اسلام آباد(خبرایجنسیاں)خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر مملکت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا حق دفاع ختم کر دیا۔ عدالت نے سابق صدر کی التواء کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ مفرور ملزم اب وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے التواکی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا ملزم کی بیماری کے باعث ٹرائل ملتوی نہیں کیا جا سکتا، عدالت عظمیٰکے حکم کے بعد پرویز مشرف کو مزید موقع نہیں دے سکتے، وفاقی حکومت وکلاکے نام اور فیس کی تفصیلات پیش کرے، فیصلہ کریں گے پرویز مشرف کے لیے کس وکیل کی خدمات لینی ہیں، مشرف خود کو قانون کے حوالے کریں تو اپنی مرضی کا وکیل کرسکتے ہیں۔ عدالت نے وزارت قانون سے مشرف کے دفاع کے لیے وکلا کے نام طلب کرلیے۔ قانون کے مطابق عدالت مشرف کے دفاع کے لیے خود وکیل مقرر کرے گی۔پرویز مشرف کے وکیل نے کہا مشرف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس قابل نہیں کہ ملک واپس آسکیں، ہر تاریخ پر کیس کے التوا کی استدعا کرنے پر شرمنگی ہوتی ہے، سابق صدر کا وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے، وہیل چئیر پر ہیں، چل بھی نہیں سکتے، ایک موقع اور دے دیا جائے تاکہ وہ خود عدالت میں پیش ہو سکیں تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کردی۔