تاجر برادری کا استحصالی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، محمد فاروق شیخانی

55

حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد فاروق شیخانی نے بزنس کمیونٹی کی جانب سے سال 2019-20 کے بجٹ کو تاجر و صنعتکاروں کے لیے ظالمانہ قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے کئی منی بجٹ دے کر مہنگائی کا طوفان برپا کر چکی ہے۔ اَب اُمید تھی کہ بجٹ میں بزنس کمیونٹی کو ریلیف دیا جائے گا لیکن ٹیکسٹائل، سریہ، ماربل اور سیمنٹ پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کر کے حکومت نے ٹیکسٹائل اور بلڈرز کے کاروبار کو تباہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ جب صنعتیں تباہ ہوجائیں گی تو حکومت کو ٹیکس کہاں سے ملے گا اور جب ملکی مصنوعات تیار نہ ہوں گی اور برآمدات کم ہوں گی تو ملک کو زرمبادلہ بھی نہیں مل سکے گا جس سے قومی نقصان ہوگا۔ اِس بجٹ میں حکومت نے نہ تو بزنس کمیونٹی کو کوئی ریلیف دیا اور نہ عوام کو اور نہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی، ٹیکسوں کی بھرمار سے مہنگائی کی شرحیں بڑھیں گی جن کا براہِ راست اَثر عوام پر پڑے گا اور حکومت کا یہ دعویٰ کہ وہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہی ہے حرفِ غلط ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ برآمدات پر صفر ریٹنگ ختم کر کے کوئی اچھا اقدام نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بزنس اور عوام دُشمن بجٹ میں لگائے گئے بے جا ٹیکسوں پر نظر ثانی کریں تاکہ بزنس کمیونٹی اور عوام بجائے دبائو کے ریلیف حاصل کر سکیں۔