صنعتوں اور برآمداتی شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے، ایس ایم منیر

68

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر دانش خان، سینئر نائب صدر فراز الرحمن اور نائب صدر ماہین سلمان نے کہا ہے کہ قومی بجٹ میں صنعتوں اور برآمداتی شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے، زیرو ریٹڈ سہولت کے خاتمے سے صنعتیں تباہ اور برآمدات کم ہونے کے خدشات ہیں۔ ایس ایم منیر کا کہنا تھا کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگا اور برآمدات میں اضافے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے حکومت کے چند ماہ پہلے پیش کردہ اصلاحاتی پیکیج کا وعدہ دہرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھی، خوردنی تیل، چینی سمیت اشیاء صرف پر عائد ہونے والے ٹیکس سے ہونے والی مہنگائی سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ صدر کاٹی دانش خان کہنا تھا کہ صنعتکاروں کی جانب سے حکومت کی معاشی ٹیم کے سامنے صنعتوں اور برآمداتی شعبے کے مسائل کے پیش نظر زیر وریٹڈ سہولت برقرار رکھنے کا مطالبہ رکھا گیا لیکن افسوس ہے کہ اس پر کان نہیں دھرا گیا۔ دانش خان کا کہنا تھا کہ گارمنٹس اور لیدر سمیت پانچ بڑے درآمداتی شعبوں پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ اور توانائی کے نرخوں پر دی گئی رعایت کے خاتمے کے بعد ان کی برآمدات میں اضافے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ دانش خان نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے ایس ایم ایز پہلے ہی شدید خطرات سے دو چار ہیں اور حالیہ بجٹ میں اس سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔ صدر کاٹی کا کہنا تھا کہ غیر حقیقی ٹیکس اہداف اور متوسط طبقے پر ٹیکس میں اضافے سے محصولات کا دائرہ وسیع کرنے کی پالیسی دانش مندانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد پہلے خطاب میں صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدات کے فروغ کا وژن دیا تھا، جس کا بزنس کمیونٹی نے خیر مقدم کیا تھا تاہم حکومت کے پہلے بجٹ میں پالیسیاں اس وژن کے مطابق نظر نہیں آتیں۔ انہوں نے کراچی میں منصوبوں کے لیے ساڑھے 45ارب مختص کرنے کو قابل ستائش اقدام قرار دیا۔ دانش خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملکی صنعتی شعبے کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل نہیں دی جائیں گی معاشی استحکام کی منزل حاصل نہیں ہوسکتی۔ صدر کاٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان برآمداتی صنعتوں کو حاصل زیر ریٹڈ سہولت واپس لینے کی تجویز پر نظر ثانی کریں۔