ایل این جی پر مزیدٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لی جائے،غیاث پراچہ

30

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ بجٹ میںسی این جی شعبہ کے لئے درآمد کی جانے والی ایل این جی پر کسٹم ڈیوٹی لگانے کی تجویز واپس لی جائے کیونکہ اس سے ماحول دوست ایندھن کی قیمت میںساڑھے پانچ روپے سے چھ روپے فی لیٹر کا ناقابل برداشت اضافہ ہو جائے گا۔قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے اور پٹرول کا استعمال بڑھ جائے گا جس سے ماحول متاثر اور آئل امپورٹ بل بڑھے گا،موجودہ حالات میں سی این جی سیکٹرٹیکسوں کا مزید بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ غیاث پراچہ نے اے پی سی این جی اے کی کورکمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں ایل این جی کی درآمد پر پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے اور دس فیصد فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے جس سے ایل این جی کی قیمت میں چھ روپے فی لیٹرتک کا اضافہ ہو جائے گا جس سے سی این جی مالکان کے مسائل بڑھ جائیں گے۔ ایل این جی کی قیمت کی کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے ساڑھے تین روپے فی لیٹر، سیلز ٹیکس کی وجہ سے دو روپے فی لیٹر اور فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کی وجہ سے بیس پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہو جائے گا۔ سی این جی سیکٹر ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے تاہم ودھولڈنگ ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے فارمولے سے اختلاف ہے جسے سہل بنانے کی ضرورت ہے جبکہ اس شعبے کے لئے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔دیگر شعبوں کا بوجھ سی این جی پر نہ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سیکٹر پہلے ہی تمام دیگر شعبوں سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے اس لئے مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انھوں نے کہا کہ نئے ٹیکسوں کی وجہ سے سی این جی اور پٹرول کا فرق بہت کم ہو جائے گا جس سے یہ شعبہ بند، لاکھوں افراد بے روزگار اور ساڑھے چار سو ارب کی سرمایہ کاری ضائع ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاور سیکٹر اور دوسرے شعبوں کے لئے درآمد ہونے والی ایل این جی پر محاصل بڑھانے پر اے پی سی این جی اے کو کائی اعتراض نہیں ہے۔