قبائلی اضلاع میں انتخابات مؤخرکرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں

51

پشاور (وقائع نگار خصوصی) قبائلی اضلاع میں مجوزہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو 18 دن مؤخر کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ حکومت کی طرف سے مسلسل انتخابات کے التوا کی سازشوں کا حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے المرکز الاسلامی پشاور جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت کی مسلسل کوشش ہے کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو موخر کیا جائے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی اپنی ایک سالہ انتہای ناکام اور شرمناک کارکردگی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں حکومت ہر شعبے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ جو وعدے اور دعوے انہوں نے کیے تھے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے جس کی وجہ سے اب وہ عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی، پیٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں بیپناہ اضافے نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔ اس لیے اب وہ انتخابات سے فرار کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے لیکن ہم انھیں بھاگنے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کے 2008، 2013 ء کے مقابلے میں اس وقت قبائیلی اضلاع میں امن و آمان کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ اس وقت کے مخدوش صورت حال میں بھی انتخابات وقت پر ہوا تھے۔ انہوں نے کہا کے اگر حالات خراب بھی ہیں تو 18 دنوں میں کونسی تبدیلی ممکن ہے۔ ایسا کرنے سے مزید بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کے قبائیلی اضلاع میں فی الفو صوبائی انتخابات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تا کے انضمام کے ثمرات کو حاصل کیا جاسکے اور قبائیلی اضلاع کو ترقی کے راستے پر ڈالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کے موجودہ حکومت قبائیلی عوام کے جذبات اور احساسات کے ساتھ کھیل رہی ہے اور ان کو اپنی گھاناونی سیاست کی بھینٹ چھڑانا چاہتی ہے جو کے قبائل کے ساتھ غداری اور دھوکا ہے۔انہوں نے کہا جماعت اسلامی ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیگی۔ اور قبائلی عوام کو ان کا حق دلا کر رہے گی۔ انہوں نے کہا ہم اس فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کریںگے اور کل تمام قبائیلی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں الیکشن کے التوا کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوںگے۔